سوات میں آرایل این جی کے نئے کنکشن دیئے جاسکتے ہیں،وفاقی پارلیمانی سیکرٹری توانائی و پٹرولیم ڈویژن

اسلام آباد۔7نومبر (اے پی پی):وفاقی پارلیمانی سیکرٹری توانائی پٹرولیم ڈویژن میاں خان بگٹی نے کہا ہے کہ حکومتی پالیسی کے تحت سوات میں آرایل این جی کے نئے کنکشن دیئے جاسکتے ہیں،سوئی گیس کے نئے کنکشن پر پابندی تاحال برقرار ہے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں امجد علی خان کے سوات میں سوئی گیس جیسے متبادل توانائی کے ذرائع کی عدم موجودگی کے نتیجے میں جنگلات کی کٹائی اور دیگر …

اسلام آباد۔7نومبر (اے پی پی):وفاقی پارلیمانی سیکرٹری توانائی پٹرولیم ڈویژن میاں خان بگٹی نے کہا ہے کہ حکومتی پالیسی کے تحت سوات میں آرایل این جی کے نئے کنکشن دیئے جاسکتے ہیں،سوئی گیس کے نئے کنکشن پر پابندی تاحال برقرار ہے۔

جمعہ کو قومی اسمبلی میں امجد علی خان کے سوات میں سوئی گیس جیسے متبادل توانائی کے ذرائع کی عدم موجودگی کے نتیجے میں جنگلات کی کٹائی اور دیگر موسمیاتی تباہ کاریوں سے متعلق توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری میاں خان بگٹی نے بتایا کہ سوات میں 721 کلومیٹر کا گیس پائپ لائن ہے،اس میں وہاں مقامی47 ہزار کنکشن ہیں،نئی سکیموں میں سے 5 علاقوں میں کام مکمل جبکہ دیگر پر کام جاری ہے،وہاں سیکیورٹی سمیت دیگر ایشوز ہیں،وہاں پر آرایل این جی کے نئے کنکشن دیئے جاسکتے ہیں،سوئی گیس کے نئے کنکشن نہیں دیئے جاسکتے۔

امجد علی خان نے کہا کہ وہاں گیس کی پیداوار استعمال سے زیادہ ہے،وہاں پر گیس کی فراہمی آئینی حق ہے،متبادل توانائی نہ ہونے کی وجہ سے جنگلات کا کٹائو تیزی سے ہورہا ہے،اس پر ایک کمیٹی بنائی جائے۔میاں خان بگٹی نے بتایا کہ وہاں 400 ایم ایم ایف گیس کی پیداوار ہورہی ہے،یہاں پریشر کا بھی ایشو نہیں ہے،حکومت کی پالیسی کی وجہ سے آرایل این جی کی جہاں درخواست آئے گی،اس پر عمل ہوگا۔جس کی طرف سے پہلے درخواستیں آئیں گی انہیں پہلی ترجیح پر کنکشن دیا جائے گا۔

مزید خبریں