اسلام آباد ۔7نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل پشاور کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سرکاری محکمے کی جانب سے ترقیاتی عمل میں تاخیر کی ذمہ داری ملازمین پر نہیں ڈالی جا سکتی اور ایسے ملازمین جنہوں نے مقررہ قواعد کے مطابق ترقی کے لیے اہلیت حاصل کر لی ہو اُن کے ترقی کے حق کو نئے قواعد نافذ ہونے …
سرکاری محکمے کی جانب سے ترقیاتی عمل میں تاخیر کی ذمہ داری ملازمین پر نہیں ڈالی جا سکتی ، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔7نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل پشاور کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سرکاری محکمے کی جانب سے ترقیاتی عمل میں تاخیر کی ذمہ داری ملازمین پر نہیں ڈالی جا سکتی اور ایسے ملازمین جنہوں نے مقررہ قواعد کے مطابق ترقی کے لیے اہلیت حاصل کر لی ہو اُن کے ترقی کے حق کو نئے قواعد نافذ ہونے کے بعد ختم نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اس ضمن میں کیا گیا تحریری فیصلہ جمعہ کو جاری کیا ۔
سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری فیصلے کے مطابق جسٹس مسرت ہلالی کی سربراہی میں بنچ نے سول پٹیشنز برائے لیو ٹو اپیل نمبر 700-P اور 701-P آف 2024 میں فیصلہ سناتے ہوئے خیبر پختونخوا کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ کی اپیلیں خارج کر دیں۔یہ اپیلیں سروس ٹربیونل کے اُس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھیں جس میں دو سب انجینئرز ( عنایت اللہ اور سمیع الدین ) کی اپیلیں منظور کی گئی تھیں اور انہیں اسسٹنٹ انجینئر (گریڈ 17) کے عہدے پر ترقی دینے کا حق دار قرار دیا گیا تھا۔فیصلے میں کہا گیا کہ دونوں ملازمین 1986 میں سب انجینئرز (گریڈ 12) کے طور پر تعینات ہوئے تھے اور بعد میں گریڈ 16 میں اپ گریڈ کیے گئے۔
اُن کی ترقی کے لیے کاغذات تیار کر لیے گئے تھے مگر محکمہ نے ڈی پی سی (Departmental Promotion Committee) کی میٹنگ ملتوی کر دی۔ اس بنیاد پر کہ نئے ترقیاتی قواعد پر غور جاری ہے۔ بعد ازاں جنوری 2023 میں نئے قواعد نافذ ہوئے جن کے تحت وہ ترقی کے اہل نہیں رہے۔عدالت نے قرار دیا کہ جو ملازمین قواعد کے مطابق ترقی کے اہل قرار پا چکے ہوں اُن کا یہ حق نئے قواعد نافذ ہونے کے باوجود متاثر نہیں ہو سکتا۔ محکمانہ تاخیر ملازمین کے خلاف استعمال نہیں کی جا سکتی۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ کسی بھی قاعدے یا قانون میں تبدیلی بنیادی طور پر آئندہ (prospective) طور پر نافذ ہوتی ہے جب تک کہ قانون میں واضح طور پر اس کے ماضی سے اطلاق (retrospective effect) کی اجازت نہ دی گئی ہو۔آخر میں عدالت نے کہا کہ محکمہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کی میٹنگ جان بوجھ کر مؤخر نہیں کر سکتا اور نہ ہی نئی ترامیم کی آڑ میں اہل ملازمین کے حقِ ترقی کو ختم کر سکتا ہے۔








