اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کا مشترکہ قدرتی وسائل کو دانستہ طور پر ہتھیار بنانے پر شدید تشویش کا اظہار ، بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا حوالہ

اقوام متحدہ۔7نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے مشترکہ قدرتی وسائل کو دانستہ طور پر ہتھیار بنانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس سلسلے میں بھارت کی طرف سے رواں سال کے آغاز میں 1960 کے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کا حوالہ دیا ۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ …

اقوام متحدہ۔7نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے مشترکہ قدرتی وسائل کو دانستہ طور پر ہتھیار بنانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس سلسلے میں بھارت کی طرف سے رواں سال کے آغاز میں 1960 کے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کا حوالہ دیا ۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ سندھ طاس معاہدہ بحال کرے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے صرف ایک ملک کو نقصان نہیں پہنچتا، یہ بین الاقوامی آبی قانون پر اعتماد کو کمزور کرتے ہیں اور وسائل پر مبنی اور زبردستی کی دوسری جگہوں پر ایک مثال قائم کرتے ہیں۔بھارت نے اپریل میں پہلگام کے واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان چھ دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے لیے عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا تھا۔پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسلح تصادم میں ماحول کے استحصال کی روک تھام کے عالمی دن کے موقع پر آب و ہوا اور سلامتی پر کے موضوع پر وسیع پیمانے پر ہونے والی بحث میں حصہ لیتے ہوئےسندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے یکطرفہ بھارتی اقدام کو مشترکہ قدرتی وسائل کو جان بوجھ کر ہتھیار بنانے کی کھلی مثال قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ تعاون کی ایک ایسی مثال ہے،

جس نے جنگ کے وقت بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس کے پانی کی منصفانہ اور پیش قیاسی کی تقسیم کو یقینی بنایا ہے۔اس فریم ورک کو معطل کرنے کابھارت کا غیر قانونی یکطرفہ فیصلہ معاہدے کی روح کو مجروح کرتا ہے، ماحولیاتی نظام کو خطرے میں ڈالتا ہے، ڈیٹا شیئرنگ میں خلل ڈالتا ہے، اور ان لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتا ہے جو اپنی بقا کے لیے خوراک اور توانائی کے تحفظ کے لیے دریائے سندھ کے پانی کے نظام پر انحصار کرتے ہیں ۔ یہ بھارتی اقدام اس کونسل کے ہر رکن اور مجموعی طور پر عالمی برادری کے لیے شدید تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔

پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے کی کوئی شق یکطرفہ معطلی یا ترمیم کی اجازت نہیں دیتی،عدالت ثالثی کے 2025 کے ایوارڈ نے معاہدے اور اس کے تنازعات کے تصفیہ کے طریقہ کار کی ، پاکستان کے اس موقف کو برقرار رکھتے ہوئے کہ تمام مسائل کو قانونی فریم ورک کے اندر ہی حل کیا جانا چاہیے، کے درست ہونے کی توثیق کی۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ معاہدے کا مکمل احترام کیا جائے گا اور قائم کردہ چینلز کے ذریعے اس کی تعمیل اور ا س کے تحت ہونے والے معمول کے کام جلد بحال ہوں گے۔ مسلح تصادم کے ماحولیاتی اثرات اور آب و ہوا سے چلنے والے سیکورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے تنازعات کی روک تھام اور جلد از جلد حل پر توجہ دینے پر زور دیا۔

انہوں نے امن مشنز میں اس شعبے میں پاکستان کے کام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تحفظات کواقوام متحدہ کے متعلقہ امن آپریشنز اور سیاسی مشنز میں ضم کیا جا سکتا ہے اور ا ن ا قدامات کو منصوبہ بندی، بجٹ سازی، اور مینڈیٹ ڈیزائن میں شامل کیا جانا چاہیے۔ پاکستانی ایلچی نے بین الاقوامی قانون کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، خاص طور پروہ بین الاقوامی انسانی قانون، جس میں فریقین کی ذمہ داریاں شامل ہیں کہ وہ شہری اور فوجی مقاصد میں فرق کریں، شہریوں کو بچانے کا خیال رکھیں، اور جنگ کے طریقوں سے گریز کریں جن سے قدرتی ماحول کو وسیع، طویل مدتی اور شدید نقصان پہنچنے کی توقع ہے۔

اس کے علاوہ، انہوں نے اقوام متحدہ کے نظام میں ہم آہنگی کو فروغ دینے پر زور دیا، جس میں اقوام متحدہ کی ملکی ٹیموں کے ساتھ ساتھ متعلقہ علاقائی اور بین الاقوامی اداروں کے درمیان زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی پیدا کی جائے۔ پاکستانی مندوب نے س تناظر میں موسمیاتی اور حیاتیاتی تنوع کے لیے مالیات فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو کہ نیا، اضافی، پیش قیاسی، اور گرانٹ پر مبنی ہو، نہ کہ قرض پیدا کرنے والا، یا ترقی، انسان دوستی، یا امن و سلامتی کے لیے مالیات کے ساتھ دوگنا شمار ہو۔

عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے رجحان سے نمٹنے کے لیے عالمی پلیٹ فارمز کے ذریعے مشترکہ لیکن مختلف ذمہ داریوں اور فریقین کے وعدوں کے اصول پر مبنی تعاون پر مبنی نقطہ نظر کے ذریعے بہترین طریقے سے عمل کیا جا سکتا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مشترکہ قدرتی وسائل تعاون کی راہیں بنیں، نہ کہ تنازعات پیدا ہوں ۔

اس سے قبل انڈر سیکرٹری جنرل اور اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انگر اینڈرسن نے بتایا کہ کس طرح تنازعات کی وجہ سے ہونے والا ماحولیاتی نقصان لوگوں کو بھوک، بیماری اور بے گھر ہونے کی طرف دھکیل رہا ہے ، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جنگ کے باعث غزہ میں کی 95 فیصد زمین اور 95 فیصد درخت تباہ ہو چکے ہیں جبکہ ہیٹی کے تنازعے نے نشیبی کچی آبادیوں میں مٹی اور پانی کی آلودگی میں اضافہ کر دیا ہے۔

مزید خبریں