واشنگٹن۔10نومبر (اے پی پی):امریکی سینیٹروں نےایک دو جماعتی معاہدہ طے کر لیا ہے جس کے تحت وفاقی فنڈز کی بحالی اور ریکارڈ 40 دن سے جاری حکومتی شٹ ڈاؤن کے خاتمے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اے پی کے مطابق اس معاہدے سے متعدد سرکاری اداروں کی معطل سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو سکیں گی۔ قانون سازوں نے ایک عبوری بجٹ بل پر اتفاق کیا ہے جو جنوری تک حکومت …
امریکی سینیٹروں کے درمیان معاہدہ، طویل ترین حکومتی شٹ ڈاؤن ختم ہونے کے امکانات روشن

مزید خبریں
واشنگٹن۔10نومبر (اے پی پی):امریکی سینیٹروں نےایک دو جماعتی معاہدہ طے کر لیا ہے جس کے تحت وفاقی فنڈز کی بحالی اور ریکارڈ 40 دن سے جاری حکومتی شٹ ڈاؤن کے خاتمے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اے پی کے مطابق اس معاہدے سے متعدد سرکاری اداروں کی معطل سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو سکیں گی۔ قانون سازوں نے ایک عبوری بجٹ بل پر اتفاق کیا ہے جو جنوری تک حکومت کی مالی معاونت جاری رکھے گا۔
اس معاہدے پر صحت کے سبسڈی پروگرام، غذائی امداد اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وفاقی ملازمین کی برطرفیوں کے معاملے پر طویل بحث کے بعد اتفاق رائے ہوا۔فلوریڈا میں اپنے ویک اینڈ کے بعد وائٹ ہاؤس پہنچنے پر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ہم شٹ ڈاؤن کے خاتمے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
یہ قانون سازی اتوار کی شب سینیٹ میں ابتدائی ووٹنگ کے لیے پیش کی جائے گی۔ سینیٹ سے منظوری کے بعد بل کو ریپبلکن اکثریت والے ایوانِ نمائندگان سے پاس ہونا ہو گا، جس کے بعد اسے صدر کے دستخط کے لیے بھجوایا جائے گا۔قانون سازوں کے مطابق مجوزہ بل کے تحت فوڈ اسٹامپ پروگرام کے لیے فنڈنگ بحال کی جائے گی، جو 4 کروڑ 20 لاکھ سے زائد کم آمدنی والے امریکیوں کو غذائی اشیاء خریدنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
بل میں ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ ماہ برطرف کیے گئے ہزاروں وفاقی ملازمین کی بحالی اور انہیں واجب الادا تنخواہیں دینے کی شق بھی شامل ہے۔تاہم سینیٹ کے بعض ڈیموکریٹ اراکین نے اس معاہدے پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹک رہنما چَک شومر نے کہا کہ وہ ایسے بل کی حمایت نہیں کر سکتے جو صرف ووٹ کی پیشکش کرے مگر براہِ راست صحت کی سبسڈی میں توسیع نہ کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں ایسے بل کی حمایت نہیں کر سکتا جو صحت کے بحران کا حل پیش کرنے میں ناکام ہو۔ یہ جدوجہد جاری رہے گی۔








