اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں نئی صنعتی پالیسی پاکستان کی معاشی خودمختاری کی ضمانت بنے گی۔بدھ کو پاکستان پراسپیریٹی فورم میں اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان آج اپنی معاشی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ ہم وقتی اقدامات نہیں بلکہ دیرپا معاشی اصلاحات پر …
وزیراعظم محمدشہباز شریف کی قیادت میں نئی صنعتی پالیسی پاکستان کی معاشی خودمختاری کی ضمانت بنے گی،معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان

مزید خبریں
اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں نئی صنعتی پالیسی پاکستان کی معاشی خودمختاری کی ضمانت بنے گی۔بدھ کو پاکستان پراسپیریٹی فورم میں اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان آج اپنی معاشی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ ہم وقتی اقدامات نہیں بلکہ دیرپا معاشی اصلاحات پر یقین رکھتے ہیں۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ اقتصادی استحکام کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ مستقل مزاجی، قابلیت اور واضح وژن سے حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی قومی ٹیرف پالیسی تحفظ پسندی سے مقابلہ جاتی معیشت کی طرف ایک بڑا قدم ہے، جس کے تحت آئندہ پانچ برسوں میں ڈیوٹی اسلاب کو چار سطحوں تک محدود کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ٹیرف پالیسی کے نفاذ سے صنعتوں کو 175 ارب روپے کی لاگت میں بچت متوقع ہے، جبکہ ریگولیٹری گلوٹین اصلاحات کے نتیجے میں کاروباری لاگت میں سالانہ 250 ارب روپے کی کمی آئی ہے۔ ملک بھر میں 465 ریگولیٹری اصلاحات کے ذریعے لائسنسنگ اور منظوری کے عمل کو آسان بنایا گیا ہے۔ہارون اختر خان نے مزید کہا کہ ’’آسان کاروبار ایکٹ 2025‘‘ ان اصلاحات کا قانونی ستون ثابت ہوگا، جبکہ قومی صنعتی پالیسی 2025 پاکستان کی معاشی بحالی کا نیلا خاکہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں نئی صنعتی پالیسی پاکستان کی معاشی خودمختاری کی ضمانت بنے گی۔انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے تحت سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا، پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور بیمار صنعتی یونٹس کی بحالی کے لیے نیا فریم ورک تشکیل دیا گیا ہے۔ نیشنل انڈسٹریل ریوائیول کمیشن اس ضمن میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ہارون اختر خان نے کہا کہ حکومت نے صنعتوں اور ایس ایم ایز کے لیے قرضوں کی فراہمی کو آسان اور شفاف بنایا ہے۔ درمیانے درجے کی صنعتوں کو قرضوں تک بہتر رسائی دی جا رہی ہے جبکہ ریگولیٹری اتھارٹیز کی بلاجواز مداخلت کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقے کے تحفظ کے لیے ایک مؤثر شکایتی نظام قائم کیا جا رہا ہے، کیونکہ ہم کاروبار کو خوف سے نہیں، سہولت سے چلانا چاہتے ہیں۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ نئی صنعتی پالیسی کا مقصد پیداواریت، شفافیت اور جدیدیت کو فروغ دینا ہے۔ ٹیرف، ٹیکس اور توانائی کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر اصلاحات جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ الیکٹرک وہیکل پالیسی گرین انڈسٹری کے فروغ میں سنگِ میل ثابت ہوگی، اور ہائی ٹیک و گرین فیلڈ صنعتوں کو خصوصی رعایتی ٹیرف فراہم کیا جائے گا۔ ایس ای زیز میں نئی لینڈ لیز ماڈل کے ذریعے صنعتوں کے لیے زمین کی فراہمی کو مزید آسان اور کم لاگت بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ تین بڑے اقتصادی زونز میں کسٹم بانڈڈ ویئر ہاؤس قائم کیا جا رہا ہے تاکہ درآمدی خام مال کی ترسیل اور صنعتی عمل کو سہل بنایا جا سکے۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ ہم پالیسی کو پیداوار اور مراعات کو سرمایہ کاری میں بدل رہے ہیں۔ اکیسویں صدی کی مسابقت کا انحصار جدت، شفافیت اور گرین ٹیکنالوجی پر ہے۔ حکومت، نجی شعبہ اور تعلیمی ادارے مل کر پاکستان کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کریں گے۔ خوشحالی کا سفر مشکل ضرور ہے مگر ممکن ہے ، بہترین وقت اب ہے۔








