اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہےکہ ملک میں سول ملٹری تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت ہے،تمام قومی امور پر ایک پیج پر ہونے سے سول اور ملٹری قیادت پوری دنیا میں پاکستان کا مقدمہ لڑتے نظر آتی ہے، 27 ترمیم کے بعد آبادی،تعلیم اور بلدیاتی اداروں کے حوالے سے 28 ویں ترمیم لانے کا حکومتی اعلان خوش آئند ہے۔بدھ کو …
پاکستان میں سول ملٹری تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت ہے،28 ویں ترمیم کا حکومتی اعلان خوش آئند ہے،ڈاکٹر فاروق ستار

مزید خبریں
اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہےکہ ملک میں سول ملٹری تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت ہے،تمام قومی امور پر ایک پیج پر ہونے سے سول اور ملٹری قیادت پوری دنیا میں پاکستان کا مقدمہ لڑتے نظر آتی ہے، 27 ترمیم کے بعد آبادی،تعلیم اور بلدیاتی اداروں کے حوالے سے 28 ویں ترمیم لانے کا حکومتی اعلان خوش آئند ہے۔بدھ کو قومی اسمبلی میں سینٹ سے منظور کردہ صورت میں زیر غور لانے کی تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 10 مئی کو ہم نے اپنے سے بڑے دشمن کو شکست فاش دی،عسکریت کے ہر شعبے میں اپنے دشمن کو دھول چٹا دی،خارجہ امور میں آج امریکا پاکستان کے خارجہ تعلقات نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں اور ساری دنیا میں مواقعوں کے دروازے کھل رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر ترمیم کی اپنے وقت پر ضرورت ہوتی ہے،اس پر تنقید کرتے وقت عوام کی فلاح وبہبود کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہونا،پورے خلیجی ممالک سے راستہ کھلنا اور ریجنل ممالک سے تعلقات بہتر ہونا اہم کامیابی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلدیاتی الیکشن میں ماضی میں تمام جماعتیں حصہ لیتی رہی ہیں،25 کروڑ عوام کی فلاح پر خاموشی نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ 27 ویں ترمیم پاس کرنے کے بعد حکومت ایک بڑی ذمہ داری اٹھا رہی ہے،1973 کے آئین کا بنیادی فریم ورک برقرار ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے ہمراہ دنیا میں پاکستان کا مقدمہ لڑ رہے ہیں،243 میں دفاعی ڈھانچہ تبدیل کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے،اگر استثنٰی مانگا جاتا ہے تو یہ جنگ جیتنے کے بعد مانگا جارہا ہے،ڈونلڈ ٹرمپ اگر پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی تعریف کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 140 اے میں پایا جانے والا ابہام تمام جماعتوں کے لئے چیلنج ہے۔گزشتہ دور میں ان کا دعویٰ تھا کہ وہ اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں تو اب اگر دونوں ایک پیج پر ہیں تو اس پر اعتراض کیوں ،ہم نے اپنے نوجوانوں کو آگے بڑھانا ہے۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 248 میں ترمیم پر ہمیں بھی تحفظات تھے،تاہم ماضی میں بعد از مرگ لٹکانے کے فیصلے بھی آئے اس لئے یہ وقت کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کے لئے عوام کی شرکت ضروری ہے،رانا ثناء اللہ کے اس بیان کہ 28 ویں آئینی ترمیم آبادی،تعلیم اور بلدیاتی نظام پر ہوگی اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 140 اے میں ترمیم سے پاکستان کے 30 شہروں کو ظہران ممدانی مل سکتے ہیں،تعلیم کے لئے جی ڈی پی کا 5 فیصد مختص کیاجائے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کا بنیادی انفراسٹرکچر تباہ حال ہے اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو سیاسی،معاشی اور جمہوری عمل سے نکال دیا گیا،انہیں بااختیار بنانے کی ضرورت ہے۔








