طارق انجم اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):پاکستان کی بندرگاہوں میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے جہاں اب بڑے کنٹینر جہاز اور ٹینکرز باقاعدگی سے کراچی اور پورٹ قاسم پر لنگر انداز ہورہے ہیں۔ بندرگاہ کے انفراسٹرکچر کی توسیع اور انہیں جدیدبنانے ، ڈریجنگ کے منصوبے، پورٹ سیکیورٹی ،قوانین کی سخت نگرانی اورماحول دوست جہاز رانی کے لیے ضوابط سمیت متعدد حکومتی اقدامات اس ضمن میں قابل ذکر ہیں۔ تاہم …
پاکستان کی بندرگاہوں کی ترقی کا انحصار محفوظ جہاز رانی اور ہنرمند عملے پر ہے، میرین انجینئرنگ ماہر ظفر علی

مزید خبریں
طارق انجم
اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):پاکستان کی بندرگاہوں میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے جہاں اب بڑے کنٹینر جہاز اور ٹینکرز باقاعدگی سے کراچی اور پورٹ قاسم پر لنگر انداز ہورہے ہیں۔ بندرگاہ کے انفراسٹرکچر کی توسیع اور انہیں جدیدبنانے ، ڈریجنگ کے منصوبے، پورٹ سیکیورٹی ،قوانین کی سخت نگرانی اورماحول دوست جہاز رانی کے لیے ضوابط سمیت متعدد حکومتی اقدامات اس ضمن میں قابل ذکر ہیں۔ تاہم تجارتی کارکردگی میں بہتری اسی وقت لائی جاسکتی ہے جب جہاز محفوظ، صاف اور وقت پر کام کریں۔ میرین انجینئرنگ ماہر ظفر علی کے مطابق انفراسٹرکچر میں بہتری اور آپریشنل کارکردگی کے درمیان خلا کو پر کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، مضبوط ضوابط اور پائیدار طریقہ کار اپنانا ناگزیر ہے تاکہ ماحولیاتی اور عملی چیلنجز سے موثرانداز سے نمٹا جا سکے۔پورٹ قاسم میں گنجائش میں اضافے اور کراچی میں جہازوں کی ریکارڈ آمد سمندری شعبے میں پیش رفت کی علامت ہے۔
تاہم ماحولیاتی اور ٹیکنالوجی میں مسلسل فرق بالخصوص پرانے انجن اورکاربن کے اخراج کے کنٹرول کا ناکافی نظام اب بھی بڑ ے چیلنجز ہیں۔ظفر علی جوانگلو ایسٹرن شپ مینجمنٹ کے میرین چیف انجینئر ہیں، اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کاربن کے اخراج کوکنٹرول کرنے کی ٹیکنالوجیز اور فیول آئل مینجمنٹ کا درست نفاذ ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ یہ اقدامات ڈی کاربنائزیشن، ضابطہ جاتی تعمیل اور آپریشنل استعداد کو فروغ دیتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ جہاز جو اپنے مقررہ وقت پر پہنچتے ہیں اور بندرگاہیں جو جلد کلیئر ہوتی ہیں، اعتماد اور کارکردگی کا ایک مثبت چکر بناتی ہیں۔ لیکن جب جہاز شیڈول کے مطابق نہ چلیں تو تیز کرینیں اور گہری چینلز بھی تاخیر نہیں روک سکتے۔ ایندھن جہازوں کی سب سے بڑی آپریشنل لاگت ہے اسی لیے جہاز کی کارکردگی انتہائی اہمیت رکھتی ہے ۔
الیکٹرانک انجن فی ٹن ایندھن کے لحاظ سے کارکردگی بڑھا سکتے ہیںلیکن یہ اس وقت ممکن ہے جب وہ مناسب طریقے سے ٹیون اور بیلنس کیے جائیں۔ ظفر علی کے مطابق یہ ٹیکنالوجیز فیول مینجمنٹ اور اگنیشن کو بہتر بنا کر اخراج کم کرتی ہیں، مرمت اور دیکھ بھال کی لاگت کو کم کرتی ہیں ،ضابطہ جاتی تقاضوں کی پاسداری میں مدد دیتی ہیں اور سمندری ماحول کو نقصان دہ جانداروں سے محفوظ رکھتی ہیں۔ایگزاسٹ گیس کلیننگ سسٹمز (EGCS) کا انضمام جہازوں کے کاربن اخراج میں کمی اورتوانائی کی بچت میں مدد دیتا ہے جس سے زیادہ ماحولیاتی موافق جہاز رانی ممکن ہوتی ہے۔ ظفر علی کے مطابق ماہر افرادی قوت کا ہونا ان جدید ٹیکنالوجیز کے نفاذ اورپاکستان کے پائیدار صنعتی اہداف کے حصول کے لیے ضروری ہے۔
یہ طریقہ پاکستان کو ذمہ دار شپنگ کے علاقائی رہنما کے طور پر ابھار سکتا ہے جو عوامی صحت کے تحفظ اور معاشی ترقی دونوں کو فروغ دیتا ہے۔ظفر علی جہازوں کے کاربن کے اخراج میں کمی اورسمندری ماحول کے تحفظ کے لیے پیشہ ورانہ مشاورتی خدمات کی سفارش کرتے ہیں جو میرین الیکٹرانک انجن بی ڈبلیو ٹی ایس اور ایگزاست گیس کلیننگ سسٹم میں مہارت رکھتی ہیں۔ ان خدمات کا مقصد چھوٹی اور درمیانی درجے کی کمپنیوں، جہاز مالکان اور آپریٹرز کو آپریشن بہتر بنانے، ضوابط پر عمل درآمد اور طویل مدتی اخراجات کم کرنے میں مدد دینا ہے۔ان اہداف کے حصول کے لیے وہ جہازوں کے انجن کا تفصیلی معائنہ تجویز کرتے ہیں۔
ظفر علی سٹاف کی عملی تربیت کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہیں۔ وہ باقاعدہ ورکشاپس، مفت مشاورتی نشستوںاور تربیتی اداروں و شپنگ کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کی تجویز دیتے ہیں تاکہ انجن مینجمنٹ، اخراج میں کمی اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں میں عملے کی مہارت میں اضافہ ہو ۔ان کے مطابق اہم مشینری کی باقاعدہ اوورہالنگ کی ضرورت ہے۔ظفر علی کہتے ہیں کہ ہمارا مقصد میری ٹائم کے شعبے میں مشترکہ آگاہی پیدا کرنا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی لاجسٹک کی کامیابی کا انحصار صرف بندرگاہوں کی وسعت پر نہیں بلکہ قابلیت اوراعتماد پر ہے۔ حقیقی ترقی تب ہوگی جب جہاز صاف اور مکمل آپریشنل حالت میںوقت پر بندرگاہ سے روانہ ہوں گے۔ ان کے مطابق محفوظ یا موثر جہاز رانی نعروں سے نہیں ہوتی ، یہ درستگی سے ہوتی ہے ۔








