اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):قومی اسمبلی میں 27ویں آئینی ترمیم پربحث بدھ کومسلسل دوسرے روز جاری رہی،حکومت اوراتحادی جماعتوں کے اراکین نے آئینی ترامیم کووقت کی ضرورت قراردیا جبکہ اپوزیشن جماعتوں کی اراکین نے مخالفت کی ۔ اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم پربحث میں حصہ لیتے ہوئے پی پی پی کی ڈاکٹرنفیسہ شاہ نے کہاکہ ترمیمی بل کی بعض شقوں پربحث ہونی چاہئے تھی تاہم ہماراموقف ہے کہ سویلین سپریمیسی …
قومی اسمبلی میں 27ویں آئینی ترمیم پربحث دوسرے روزبھی جاری رہی ،حکومت اوراتحادی جماعتوں نے ترامیم کووقت کی ضرورت قراردیا، اپوزیشن جماعتوں کی اراکین کی جانب سے مخالفت

مزید خبریں
اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):قومی اسمبلی میں 27ویں آئینی ترمیم پربحث بدھ کومسلسل دوسرے روز جاری رہی،حکومت اوراتحادی جماعتوں کے اراکین نے آئینی ترامیم کووقت کی ضرورت قراردیا جبکہ اپوزیشن جماعتوں کی اراکین نے مخالفت کی ۔
اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم پربحث میں حصہ لیتے ہوئے پی پی پی کی ڈاکٹرنفیسہ شاہ نے کہاکہ ترمیمی بل کی بعض شقوں پربحث ہونی چاہئے تھی تاہم ہماراموقف ہے کہ سویلین سپریمیسی تک جانے کےلئے ہمیں دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھاناچاہئے، بائیکاٹ آپشن نہیں ہوناچاہئے،ماضی میں ہم نے 17نشستوں کے ساتھ بھی اپناکرداراداکیا۔انہوں نے کہاکہ 27ویں آئینی ترمیم میں وفاقی ڈھانچہ اوروسائل کے حوالے سے شقوں کی پی پی پی نے مخالفت کی اوروہ اب اس ترمیم کاحصہ نہیں ہیں،
ہم صوبائی خودمختاری پرکوئی سمجھوتہ قبول نہیں کریں گے،اس کاکریڈٹ پی پی پی کودیناچاہیے،اسی طرح چیف الیکشن کمیشن کمشنرکی تقرری، ایگزیکٹومجسٹریسی کی بحالی اوردوہری شہریت کے حوالے سے شقوں کی بھی ہم نے مخالفت کی اوروہ اس ترمیم کاحصہ نہیں ،ملکی حالات کودیکھتے ہوئے ہم نے آرٹیکل 243کی حمایت کی ،وفاقی آئینی عدالت کے قیام کےلئے پی پی پی کی جدوجہدرہی ہے،ججوں کی ٹرانسفرکوشفاف بنانے کےلئے متعلقہ اقدامات کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ استثنیٰ جنگی ہیروز کےلئے ہےاس کی مخالفت نہیں ہونی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سیاسی اورایکٹوازم پرمبنی عدلیہ کی ضرورت نہیں ۔ثناء اللہ خان مستی خیل نے کہاکہ 27ویں آئینی ترمیم جمہوریت، بنیادی حقوق ،عدلیہ اورعوامی امیدوں کے خلاف ہے۔
ارشدعبداللہ ووہرہ نے کہاکہ آئینی ترامیم پارلیمانی جمہوریت اورطریقہ کارکاحصہ ہیں ،ملک کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا اس کی بنیادپروسائل کی تخصیص ہونی چاہئے۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم پاکستان نے اختیارات کی نچلی سطح پرمنتقلی کی شرط پرحکومت کی حمایت کی ،اختیارات کی نچلی سطح پرمنتقلی سے جمہوریت اورجمہوری ادارے مضبوط ہوں گے، آرٹیکل 140اے میں ترامیم ہونی چاہئے۔چنگیزخان کاکڑنے کہاکہ آئینی ترمیم سے 1973کاآئین کمزور ہوگا، ججز کی ٹرانسفرکی ترمیم کی ہم مخالفت کرتے ہیں۔
شہریارآفریدی نے کہاکہ ریاست کا شہریوں کے ساتھ آئین کی صورت میں سوشل کنٹریکٹ ہوتا ہے،جیوسٹریٹجک پوزیشن کی وجہ سے پاکستان کے عوام تکلیف سے گزررہے ہیں، ہماری افواج دہشت گردی کابھرپور اندازمیں مقابلہ کررہی ہیں، اس صورتحال کے تناظرمیں قوم کومتحدرکھنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جب تک ملک میں امن نہیں آئے گا اس وقت تک ملکی مفادات کاتحفظ نہیں کیاجاسکتا۔پارلیمانی سیکرٹری میاں خان بگٹی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ 27ویں آئینی ترمیم کسی ایک شخص کےلئے نہیں بلکہ ملک اورقوم کےلئے ہے۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں دہشت گردی وہ تنظیمیں کررہی ہیں جوپہاڑوں پربیٹھی ہیں ،وہ افغانستان اورانڈیا کے ایجنٹ بنے ہیں،یہ لوگ بات چیت اورمذاکرات پریقین نہیں رکھتے۔
انہوں نے کہاکہ محمودخان اچکزئی نے اپنی تقریر میں کہاہے کہ اپوزیشن مذاکرات کرنا چاہتی ہے، وزیراعظم نے اپوزیشن کوکئی بارمذاکرات کی دعوت دی مگریہ لوگ مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ۔انہوں نے کہاکہ ملک کے دفاع اورسرحدوں کی حفاظت پرسیاست نہیں چمکانی چاہیے، اپوزیشن جماعتوں کواس ترمیم کی حمایت کرنی چاہیے۔
اسامہ احمدمیلہ نے کہاکہ حکمران اتحاد کومیثاق جمہوریت پرمکمل عمل درآمدکرنا چاہیے اوراسے محض آئینی عدالت تک محدود نہیں رکھناچاہیے،اگرمیثاق جمہوریت کواپنی اصل شکل میں آئین کاحصہ بنایا جاتا ہے توہم بھی اس کی حمایت کریں گے۔پی پی پی کی شہلارضانے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ پاکستان کواندرونی اوربیرونی خطرات اورچیلنجز کاسامنا ہے، اس وقت قومی مفاد کوآگے بڑھانے کےلئے آئینی فریم ورک اورمضبوط دفاع اوروفاق کومضبوط بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہاکہ اپوزیشن جماعتوں کوکمیٹی میں جاکراپنااختلافی موقف دینا چاہیے تھا مگرانہوں نے یہ موقع ضائع کردیا ،عوام کوانصاف کی جلدفراہمی کےلئے عدلیہ میں اصلاحات ضروری ہیں، آئینی ترمیم میں ججز کی ٹرانسفرکاطریقہ کارشفاف بنانے کی تجویز دی گئی ہے،سپریم کمانڈر کےلئے استثنیٰ کی تجویزکسی فرد واحد کےلئے نہیں بلکہ عہدے کےلئے ہے اس پردھول اڑانے کی ضرورت نہیں۔








