نیکٹا، این سی ایس ڈبلیو اور یو این ویمن کے اشتراک سے خواتین، امن اور سلامتی پر پہلا قومی مکالمہ

اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) نے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خواتین (یو این ویمن) اور نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (این سی ایس ڈبلیو) کے اشتراک سے خواتین، امن اور سلامتی کے موضوع پر پہلا قومی مکالمہ اسلام آباد میں منعقد کیا۔ اس مکالمے کا مقصد امن، حکمرانی اور بحرانوں کے ردِعمل میں خواتین کی قیادت و شمولیت کو فروغ دینا اور پاکستان …

اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) نے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خواتین (یو این ویمن) اور نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (این سی ایس ڈبلیو) کے اشتراک سے خواتین، امن اور سلامتی کے موضوع پر پہلا قومی مکالمہ اسلام آباد میں منعقد کیا۔

اس مکالمے کا مقصد امن، حکمرانی اور بحرانوں کے ردِعمل میں خواتین کی قیادت و شمولیت کو فروغ دینا اور پاکستان میں خواتین، امن و سلامتی کے ایجنڈے پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہے۔ یہ مکالمہ اقوامِ متحدہ کی قرارداد 1325 کے 25 سال مکمل ہونے اور پاکستان کے سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن منتخب ہونے (2025–2026) کے موقع پر منعقد ہوا۔

مکالمے میں حکومت، پارلیمان، سول سوسائٹی، نوجوانوں اور بین الاقوامی ماہرین نے شرکت کی۔نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر جواد احمد ڈوگر نے کہا کہ پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب فیصلہ سازی کی ہرسطح پر خواتین کی قیادت کو تسلیم کیا جائے۔

یو این کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ نے کہا کہ پائیدار امن کی راہ خواتین کی قیادت سے ہموار ہوتی ہے۔ جرمن سفیر نے خواتین اور لڑکیوں کی مساوی شمولیت کو پائیدار امن کی بنیاد قرار دیا جبکہ این سی ایس ڈبلیو کی چیئرپرسن اُمِ لَیلا اظہر نے کہا کہ خواتین کو پالیسی سازی کے مرکز میں رکھنا مؤثر حکمرانی کے لیے ضروری ہے۔

دو روزہ مکالمے میں چھ موضوعاتی نشستوں کے دوران صنفی حساس حکمرانی، انصاف اور خواتین امن سازوں کے تجربات پر گفتگو ہوئی۔ نوجوانوں نے موسمیاتی لچک اور آن لائن انتہاپسندی کے خلاف اپنی اختراعی کوششیں پیش کیں۔ انڈونیشیا، فلپائن، سری لنکا اور اردن کے ماہرین نے اپنے تجربات سے رہنمائی فراہم کی۔

جاپان کے سفیر تاکاہاشی کاتسوہیکو نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ اب وقت ہے کہ خواتین، امن و سلامتی کے عالمی ایجنڈے کو عملی اقدامات میں ڈھالا جائے۔اجلاس میں یو این ویمن پاکستان کے نمائندہ جمشید ایم قاضی نے اسے سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ایسے مستقبل کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں برابری کی سطح پر ترقی کی بنیادہو سکے۔

وزارتِ داخلہ کے اسپیشل سیکرٹری محمد داؤد بریچ نے کہا کہ امن و استحکام، صنفی برابری کے عزم سے جدا نہیں۔ یہ مکالمہ پاکستان کی نیشنل سیکیورٹی پالیسی (2022–2026) اور قرارداد 1325 کے اصولوں پر مبنی تھا، جس میں خواتین کی قیادت، تحفظ، اور پالیسی سطح پر عملدرآمد کو قومی ترجیح بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

مزید خبریں