اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):ادارہ فروغِ قومی زبان میں چین کے15 ویں پانچ سالہ منصوبے کے تناظر میں جمعرات کو سیمینار بعنوان ’’جدت، کھلا پن اور مشترکہ ترقی‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ سیمینار چینی میڈیا گروپ اور پاکستان ریسرچ سینٹر فار اے کمیونٹی وِد شیئرڈ فیوچر کے باہمی اشتراک سے منعقد کیا گیا جس کا مقصد چین کے ترقیاتی وژن، صنعتی جدت پسندی اور عالمی برادری پر اس کے …
ادارہ فروغِ قومی زبان میں چین کے15 ویں پانچ سالہ منصوبے کے تناظر میں سیمینار کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):ادارہ فروغِ قومی زبان میں چین کے15 ویں پانچ سالہ منصوبے کے تناظر میں جمعرات کو سیمینار بعنوان ’’جدت، کھلا پن اور مشترکہ ترقی‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ سیمینار چینی میڈیا گروپ اور پاکستان ریسرچ سینٹر فار اے کمیونٹی وِد شیئرڈ فیوچر کے باہمی اشتراک سے منعقد کیا گیا جس کا مقصد چین کے ترقیاتی وژن، صنعتی جدت پسندی اور عالمی برادری پر اس کے مثبت اثرات کو اجاگر کرنا تھا۔

تقریب کی صدارت ڈائریکٹر جنرل ادارہ فروغِ قومی زبان پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر نے کی۔ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ چین نے جدت پر مبنی پالیسیوں کے ذریعے ترقی کی نئی راہیں ہموار کی ہیں اور آج یہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکی ہے جس کے ثمرات پورے خطے کو حاصل ہو رہے ہیں۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر پاکستان ریسرچ سینٹر خالد تیمور اکرم نے کہا کہ چین نے اپنے15 ویں پانچ سالہ منصوبے میں جدید ٹیکنالوجی اور اختراع کو مرکزی حیثیت دی ہے جو پائیدار ترقی کی ضمانت ہیں۔
پروجیکٹ ڈائریکٹر وزارتِ منصوبہ بندی محمد عاصم خان نیازی نے کہا کہ پاکستان کا نوجوان طبقہ چین کے ترقیاتی تجربات اور جدت پسندی سے قیمتی اسباق حاصل کر سکتا ہے۔(کمیونیکیشن یونیورسٹی آف چائنا)پروفیسر وانگ سی شن نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ چین کی ترقی سے نہ صرف اس کا اپنا معاشرہ بلکہ دنیا کے دیگر ممالک بھی مستفید ہو رہے ہیں،
آئندہ منصوبے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی، ہماری کامیابی کا راز جدت پسندی میں پوشیدہ ہے اور پاکستان کے ساتھ مضبوط تعلقات دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

چینی سکالر وو جیاہاؤ نے صدر شی جن پنگ کی قیادت اور ترقیاتی وژن کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ آئندہ پانچ سالہ منصوبہ سماجی ترقی، جدت اور کھلے پن کی پالیسیوں پر مبنی ہے جو دنیا کے لئے ایک ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔بحریہ یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر حیام قیوم نے کہاکہ پاکستان اور چین کے اشتراک سے خواتین کو جدید تقاضوں کے مطابق بااختیار بنایا جا سکتا ہے جس سے دونوں ممالک کی سماجی ترقی میں نیا باب رقم ہوگا۔
تقریب میں شریک طلباء نے کہاکہ دنیا چین کی طرز پر جدت، تحقیق اور اشتراک کے ذریعے ہی ترقی کی منازل طے کر سکتی ہے۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ چین کی جدت پسندی، مشترکہ ترقی اور کھلے پن کی پالیسیوں نے عالمی سطح پر اسے نمایاں مقام دلایا ہے اور پاکستان کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ انہی اصولوں کو اپناتے ہوئے ترقی کے راستے پر تیزی سے گامزن ہو۔








