اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے 27ویں آئینی ترمیم کی شقوں پر اپوزیشن کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں طویل تقاریر کے باوجود اپوزیشن اس بات کی نشاندہی کرنے میں ناکام رہی کہ وہ کس مخصوص شق کو قابل اعتراض سمجھتی ہے۔ جمعرات کو ایوان بالا کے اجلاس سینیٹر مولانا عطا الرحمان …
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے27ویں آئینی ترمیم کی شقوں پر اپوزیشن کی تنقید کو مسترد کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے 27ویں آئینی ترمیم کی شقوں پر اپوزیشن کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں طویل تقاریر کے باوجود اپوزیشن اس بات کی نشاندہی کرنے میں ناکام رہی کہ وہ کس مخصوص شق کو قابل اعتراض سمجھتی ہے۔ جمعرات کو ایوان بالا کے اجلاس سینیٹر مولانا عطا الرحمان کے نکتہ اعتراض پر ردعمل دیتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مولانا نہ صرف اپنی جماعت کے پارلیمانی لیڈر تھے بلکہ وہ ایک سیاسی نظریے اور فکر کے بھی نمائندہ تھے۔ رانا ثناء اللہ نے مولانا عطاء الرحمان سے کہا کہ وہ اس شق کی نشاندہی کریں کہ وہ کس شق کو زہریلا سمجھتے ہیں
اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ اپوزیشن نے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں دو دن کے دوران وسیع تقاریر کیں، بغیر واضح طور پر یہ بتائے کہ کون سا "زہر” شامل کیا گیا ہے۔انہوں نے آرٹیکل 243 میں ترامیم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ فوج کے اندرونی کمانڈ کے ڈھانچے میں تبدیلیاں پیشہ وارانہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ قوم اور دنیا نے پہلی بار پاکستان کے جسامت اور معاشی طاقت سے بڑے دشمن کے خلاف فیصلہ کن ردعمل کا اعتراف کیا، اگر حکومت نے پاکستان کی حالیہ فوجی کامیابی کو تسلیم کرتے ہوئے کمانڈر کو فیلڈ مارشل کا عہدہ دینے کے لئے مناسب عمل کی پیروی کی ہے تو اس اعزاز کو آئین میں شامل کرنے میں ’’کوئی قابل اعتراض یا غیر آئینی‘‘ نہیں تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا 25کروڑ لوگوں میں سے ایک شخص نے بھی پاکستان کی فتح یا اس کی فوجی قیادت کو دیئے گئے اعتراف کو مسترد کیا؟








