بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم میں سزا ئے موت سنا دی گئی

ڈھاکہ ۔17نومبر (اے پی پی):بنگلہ دیش کی خصوصی عدالت نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو ’’انسانیت کے خلاف‘‘ جرائم میں سزا ئے موت سنا دی ۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کئی ماہ تک چلنے والے مقدمے کا فیصلہ بالآخر سنا دیا گیا جس میں شیخ حسینہ کو گزشتہ سال طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج پر کریک ڈاؤن کے احکامات دینے کا مجرم قرار دیا …

ڈھاکہ ۔17نومبر (اے پی پی):بنگلہ دیش کی خصوصی عدالت نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو ’’انسانیت کے خلاف‘‘ جرائم میں سزا ئے موت سنا دی ۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کئی ماہ تک چلنے والے مقدمے کا فیصلہ بالآخر سنا دیا گیا جس میں شیخ حسینہ کو گزشتہ سال طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج پر کریک ڈاؤن کے احکامات دینے کا مجرم قرار دیا گیا۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سابق وزیر اعظم پر جرم ثابت ہونے پر انہیں موت کی سزا سنائی گئی۔پیر کو عدالت میں کیس کے تین ملزمان میں سے صرف ایک موجود تھا۔ سابق آئی جی پولیس چوہدری عبداللہ المامون نے صحت جرم قبول کیا تھا اور وہ سلطانی گواہ بن گئے تھے۔کئی ماہ تک جاری رہنے والے ٹرائل میں پراسیکیوشن کا دعویٰ رہا ہے کہ شیخ حسینہ واجد نے گزشتہ سال جولائی میں اپنی حکومت کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران طاقت کا بے جا استعمال کرتے ہوئے ’’انسانیت کے خلاف جرائم‘‘ کا ارتکاب کیا تھا۔

رواں سال بی بی سی آئی نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے فون کی ایک ایسی آڈیو کی تصدیق کی جس سے پتا چلتا ہے کہ گزشتہ سال بنگلہ دیش میں طلبہ کی سربراہی میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف سخت کریک ڈاون کرنے کا حکم انہوں نے ہی دیا تھا۔اس آڈیو میں، جو مارچ میں آن لائن لیک ہوئی، حسینہ واجد کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز کو اجازت دیتی ہیں کہ وہ مظاہرین کے خلاف مہلک ہتھیار استعمال کریں اور جہاں بھی انہیں دیکھیں، گولی مار دیں۔اس ریکارڈنگ میں حسینہ واجد کو ایک سینئر حکومتی اہلکار سے بات چیت کرتے سنا جا سکتا ہے جو اب تک سامنے آنے والا سب سے اہم ثبوت ہے کہ انہوں نے حکومت مخالف مظاہرین پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا۔ پیر کو بنگلہ قومی ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر ہونے والی سماعت میں جج غلام مرتضیٰ نے ڈھاکہ کی بھری عدالت میں پڑھ کر سنایا کہ انسانیت کے خلاف جرائم کے تمام تقاضے پورے ہو چکے ہیں۔

مقدمے کے دوران پراسیکیوٹرز نے عدالت کو بتایا کہ انہیں اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ حسینہ واجد نے جولائی اور اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں احتجاج کو دبانے کے لیے مہلک طاقت استعمال کرنے کے براہ راست احکامات دیے تھے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، 15 جولائی سے پانچ اگست 2024 کے دوران احتجاج میں تقریباً 1,400 افراد کی اموات اور ہزاروں زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے متاثر ہوئے۔حسینہ واجد کی نمائندگی ایک ریاستی مقرر کردہ وکیل نے کی جنہوں نے عدالت کو بتایا کہ ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کی بریت کی درخواست کی۔78 سالہ شیخ حسینہ واجد نے عدالت کے احکامات کی نافرمانی کرتے ہوئے بھارت سے واپس آ کر اپنے مقدمے میں پیش ہونے سے انکار کیا تھا۔

گزشتہ سال ایک بڑی احتجاجی تحریک اور مظاہروں کے بعد شیخ حسینہ واجد کا 15 سال دور حکمرانی ختم ہوا اور وہ پڑوسی ملک بھارت چلی گئی تھی اور اب بھی وہیں مقیم ہیں۔شیخ حسینہ واجد کو اسی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نامی عدالت نے موت کی سزا سنا دی جو انہوں نے خود قائم کیا تھا۔انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل (آئی سی ٹی) 2010 میں حسینہ واجد کی عوامی لیگ حکومت نے 1971 کی جنگ کے دوران پیش آنے والے مظالم کے ذمہ داروں کا احتساب کرنے کے لیے بنائی تھی۔ابتدائی سالوں میں اس ٹریبونل نے کئی اہم رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں کیں، خصوصاً جماعتِ اسلامی اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سینئر سیاستدانوں کو جنگی جرائم میں سزا سنائی گئی، جن میں سے بعض کو پھانسی بھی دی گئی۔تاہم عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ٹریبونل پر نیوٹرل شواہد کے فقدان، تیز رفتار کارروائیوں اور سیاسی انتقام کے الزامات عائد کیے۔

حسینہ حکومت نے ان اعتراضات کو ہمیشہ مسترد کیا۔بنگلہ دیش کی برطرف وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے اپنے خلاف عدالتی فیصلے سے قبل اپنے حامیوں کے لیے ایک آڈیو پیغام جاری کیا۔اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ محمد یونس کی عبوری حکومت عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنا چاہتی ہے۔ سابق وزیراعظم نے الزام لگایا کہ ان پر لگائے گئے الزامات جھوٹے ہیں اور وہ ایسے فیصلوں کی پروا نہیں کرتیں، عوامی لیگ نچلی سطح سے وجود میں آئی ہے اور یہ اقتدار کسی غاصب کی جیب سے نہیں ہے، لہذا جماعت کو ختم کرنا اتنا آسان نہیں۔آڈیو پیغام میں انہوں نے نوبیل انعام یافتہ محمد یونس اور ان کی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ آئین کی خلاف ورزی کر کے منتخب نمائندوں کو زبردستی ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام خود انصاف کریں گے اور بنگلہ دیش کو درست سمت میں لائیں گے۔انہوں نے اپنے حامیوں کو یقین دلایا کہ عدالت کا فیصلہ انہیں نہیں روک سکتا اور کہا کہ وہ اپنے ملک کے عوام کے لیے کام جاری رکھیں گی ، مجھے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، میں زندہ ہوں اور اللہ نے مجھے زندگی دی ہے، وہی اسے لے گا۔انہوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات کو بھی رد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 10 لاکھ روہنگیا پناہ گزینوں کو تحفظ دیا اور اب ان پر اسی کے برعکس الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔شیخ حسینہ واجد نے حامیوں کو بتایا کہ لوگ ان کے احتجاج کی کال پر فوری ردعمل دے چکے ہیں اور عوام نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے والدین، بہن بھائیوں کو کھو چکی ہیں اور ان کا گھر بھی جلایا گیا، لیکن وہ عوام کی بھلائی کے لیے کام جاری رکھیں گی۔شیخ حسینہ واجد 1947 میں مشرقی بنگال میں پیدا ہوئی تھیں اور سیاست ان کے خون میں رچی بسی ہوئی تھی۔وہ قوم پرست رہنما شیخ مجیب الرحمان کی صاحبزادی ہیں، جنہیں بنگلہ دیش کا ’’بنگلہ بندھو‘‘ یعنی’ ’بابائے قوم‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔ ان کی قیادت میں ہی بنگلہ دیش پاکستان سے علیحدہ ہوا تھا اور وہ 1971 میں ملک کے پہلے صدر بنے تھے۔اس وقت سے ہی شیخ حسینہ واجد نے خود کو ڈھاکہ یونیورسٹی میں ایک سٹوڈنٹ رہنما کے طور پر منوا لیا تھا۔1975 میں فوجی بغاوت کے نتیجے میں شیخ مجیب الرحمان اور ان کے خاندان کے متعدد اراکین کو قتل کر دیا گیا تھا۔

اس حملے میں صرف شیخ حسینہ واجد اور ان کی چھوٹی بہن ہی بچ پائے تھے کیونکہ وہ اس وقت ملک میں نہیں تھیں۔انہوں نے اس دوران بھارت میں جلاوطنی کاٹی اور 1981 میں واپس بنگلہ دیش لوٹیں اور اپنے والد کی جماعت عوامی لیگ کی سربراہ مقرر ہو گئیں۔انہوں نے جنرل حسین محمد ارشاد کی فوجی حکومت کے دوران دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر جمہوریت کی حمایت میں احتجاجی مظاہرے کیے۔اس تحریک نے شیخ حسینہ واجد کو مقبولیت کی بلندی پر پہنچا دیا اور وہ ایک قومی رہنما بن کر اُبھریں۔وہ 1996 میں پہلی مرتبہ ملک کی وزیراعظم بنیں۔