ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سیالکوٹ میں خواتین کے کاروباری دن کے موقع پر تقریب، خواتین تاجروں کے کردار کو سراہا گیا

سیالکوٹ۔19نومبر (اے پی پی):ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سیالکوٹ میں خواتین کے کاروباری دن کے موقع پر تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں خواتین تاجروں کے کردار کو سراہا گیا۔ صدر ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سیالکوٹ ڈاکٹر مریم صدیقہ کی زیر قیادت ہونے والی اس تقریب میں صنعت و تجارت سے وابستہ خواتین، کاروباری تنظیموں کے نمائندوں اور مقامی کاروباری شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت …

سیالکوٹ۔19نومبر (اے پی پی):ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سیالکوٹ میں خواتین کے کاروباری دن کے موقع پر تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں خواتین تاجروں کے کردار کو سراہا گیا۔ صدر ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سیالکوٹ ڈاکٹر مریم صدیقہ کی زیر قیادت ہونے والی اس تقریب میں صنعت و تجارت سے وابستہ خواتین، کاروباری تنظیموں کے نمائندوں اور مقامی کاروباری شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کے انعقاد کا مقصد خواتین کو کاروباری شعبے میں درپیش چیلنجز کو اجاگر کرنا اور ان کی کامیابیوں کو سراہنا تھا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سیالکوٹ ڈاکٹر مریم صدیقہ نے کہا کہ خواتین کی شمولیت کے بغیر پائیدار معاشی ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو کاروبار کے لیے سازگار ماحول اور سہولیات فراہم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک خواتین کو کاروبار اور صنعت کے میدان میں برابری کے مواقع فراہم نہ کیے جائیں۔ڈاکٹر مریم صدیقہ نے کہا کہ خواتین نہ صرف ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں بلکہ ہنر، محنت اور جدت کے اعتبار سے کسی بھی شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتی ہیں۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ خواتین کاروباری افراد کے لیے سہولیات اور مواقع میں اضافہ کیا جائے تاکہ انہیں قومی معاشی دھارے میں موثر انداز سے شامل کیا جا سکے۔صدر ویمن چیمبر نے کہا کہ خواتین کی معاشی خود مختاری معاشرتی ترقی کا بنیادی ستون ہےاور اس مقصد کے لیے وسائل کی فراہمی، تربیت اور مالی معاونت نہایت ضروری ہے۔تقریب میں مقررین نے خواتین کے معاشی کردار کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔

مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک بھر میں خواتین کی کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے، خصوصاً تربیت، مالی معاونت، مارکیٹ تک رسائی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں آسانیاں فراہم کی جائیں گی۔

مزید خبریں