اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے پاکستان بار کونسل کے انتخابات میں پچیس سالہ وکالت کے تجربے کی شرط کو چیلنج کرنے والی درخواست پر اٹارنی جنرل آف پاکستان سمیت تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیا ۔ عدالت نے مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔پاکستان بار کونسل کے الیکشن کے لیے مقرر اہلیت کے خلاف درخواست کی سماعت جمعرات کو جسٹس عامر فاروق …
وفاقی آئینی عدالت کا پاکستان بار کونسل کے انتخابات میں 25 سالہ تجربے کی شرط کے خلاف درخواست پر اٹارنی جنرل سمیت فریقین کو نوٹس

مزید خبریں
اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے پاکستان بار کونسل کے انتخابات میں پچیس سالہ وکالت کے تجربے کی شرط کو چیلنج کرنے والی درخواست پر اٹارنی جنرل آف پاکستان سمیت تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیا ۔ عدالت نے مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔پاکستان بار کونسل کے الیکشن کے لیے مقرر اہلیت کے خلاف درخواست کی سماعت جمعرات کو جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ موجودہ قانون کے تحت بار کونسل کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے امیدوار کے پاس کم از کم بیس سال ہائیکورٹ میں اور پانچ سال سپریم کورٹ میں وکالت کا تجربہ ہونا لازم ہے، جو مجموعی طور پر پچیس سال بنتا ہے۔ ان کے مطابق یہ شرط غیر معقول، غیر منطقی اور آئین کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔وکیل نے نشاندہی کی کہ چیئرمین پاکستان بار کونسل کے عہدے کے لیے بھی پچیس سالہ لازمی تجربے کی شرط نہیں جبکہ آئینی عدالت کے جج کے لیے کم از کم بیس سال ہائیکورٹ میں وکالت کا تجربہ کافی سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے بار کونسل کے انتخابات کے لیے پچیس سالہ شرط آئین کے آرٹیکل 25، آرٹیکل 100 اور آرٹیکل 193 کی خلاف ورزی ہے۔عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے نوٹس جاری کر دیئے۔








