اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او ) نے پنجاب میں جنوری تا جون 2025 کے دوران بچوں پر ہونے والے تشدد، بدسلوکی اور استحصال سے متعلق تازہ فیکٹ شیٹ جاری کی ہے جس میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں پنجاب حکومت رپورٹنگ کے نظام میں بہتری لائی ہے جس سے کیسز کے اندراج میں اضافہ ہوا …
ایس ایس ڈی او کی پنجاب میں بچوں پر تشدد، بدسلوکی اور استحصال سے متعلق فیکٹ شیٹ جاری، رپورٹنگ کے بہتر نظام کی بدولت زیادہ کیسز سامنے آئے
اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او ) نے پنجاب میں جنوری تا جون 2025 کے دوران بچوں پر ہونے والے تشدد، بدسلوکی اور استحصال سے متعلق تازہ فیکٹ شیٹ جاری کی ہے جس میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں پنجاب حکومت رپورٹنگ کے نظام میں بہتری لائی ہے جس سے کیسز کے اندراج میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران بچوں سے متعلق 4 ہزار 150 مقدمات درج ہوئے جن میں سے 3 ہزار 989 کیسز چالان ہوئے جبکہ 3 ہزار 791 تاحال زیرِ سماعت ہیں۔یہ فیکٹ شیٹ پنجاب پولیس سے پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے تحت حاصل کردہ ضلعی سطح کے اعدادوشمار پر مبنی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق چھ ماہ کے دوران 12 مقدمات میں سزا سنائی گئی۔رپورٹ کے مطابق جنسی استحصال کے 717 واقعات پولیس میں رپورٹ ہوئے جن میں سے 658 چالان ہوئے اور 581 مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔ 12 مقدمات میں بریت اور 8 میں درخواستیں واپس لی گئیں۔چائلڈ بیگری (بچوں سے بھیک منگوانا) سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والا جرم رہا جس کے 2 ہزار 693 کیسز درج ہوئے۔
دیگر اقسام میں چائلڈ ٹریفکنگ کے 332 کیسز سامنے آئے جن میں 4 ملزمان کو سزا ہوئی جبکہ چائلڈ لیبر کے 182 کیسز میں 8 سزائیں سنائی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق چائلڈ میرج انتہائی کم رپورٹ ہونے والا جرم رہا جس کے صرف 12 کیسز سامنے آئے۔رپورٹ میں ایس ایس ڈی او نے تفتیشی صلاحیت بڑھانے، فوری ٹرائلز، بین الادارہ جاتی تعاون، چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کے دائرہ کار میں توسیع اور کمیونٹی سطح پر آگاہی مہمات پر فوری عملدرآمد کی سفارش کی ہے۔









