لاہور۔24نومبر (اے پی پی):راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا) کے چیف آپریٹنگ آفیسر برگیڈئیر منصور احمد جنجوعہ نے کہا ہے کہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ساتھ مل کر ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو روڈا میں موجود انڈسٹری کے مسائل اور چیلنجز پر جامع رپورٹ تیار کرے گی۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر مستقبل کی منصوبہ بندی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کمیٹی کی …
لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ساتھ مل کر ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو روڈا میں موجود انڈسٹری کے مسائل اور چیلنجز پر جامع رپورٹ تیار کرے گی، بریگیڈیئر منصور جنجوعہ

مزید خبریں
لاہور۔24نومبر (اے پی پی):راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا) کے چیف آپریٹنگ آفیسر برگیڈئیر منصور احمد جنجوعہ نے کہا ہے کہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ساتھ مل کر ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو روڈا میں موجود انڈسٹری کے مسائل اور چیلنجز پر جامع رپورٹ تیار کرے گی۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر مستقبل کی منصوبہ بندی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کمیٹی کی سفارشات مکمل ہونے تک کسی بھی انڈسٹری کو سیل نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی نوٹسز جاری کیے جائیں گے۔
یہ بات انہوں نے منگل کے روزلاہور چیمبر میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس میں روڈا میں موجود انڈسٹری کے نمائندگان، لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل، سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، نائب صدر سارک چیمبر میاں انجم نثار، سابق صدر محمد علی میاں، ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین عمر سرفراز، عرفان قریشی، سید حسن رضا اور دیگر شرکا موجود تھے۔بریگیڈئیر منصور احمد جنجوعہ نے کہا کہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا مقصد لاہور کے قریب ایک جدید سہولیات سے بھرپور شہر بنانا ہے۔
اس سلسلے میں دریائے راوی کی بحالی، 46 کلومیٹر دریا کا بند، 377 کلومیٹر سڑکیں، 87 کلومیٹر میٹرو بس کے منصوبے، دریا کے دونوں اطراف کے علاقوں کی ترقی، 11 فیصد بلیو انفراسٹرکچر، 8 ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس، پل، ڈیم اور چینلائزیشن پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سگیاں کے اردگرد موجود انڈسٹری کے مسائل حل کرنے کے لیے لاہور چیمبر کا مکمل تعاون کیا جائے گا۔صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ سگیاں کے علاقے کی انڈسٹری گزشتہ چند ماہ سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ روڈا نے وقتا فوقتا پراپرٹی ہولڈرز اور فیکٹری مالکان کو نوٹسز جاری کیے ہیں کہ موجودہ ڈی سی ریٹس کے مطابق 20فیصد روڈا چارجز ادا کیے جائیں اور علاقہ کمرشلائز کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ اپنی مدد آپ کے تحت آباد کیا گیا، یہاں کی زمینیں بہت کم داموں پر خریدی گئی تھیں اور اب بھی یہ علاقہ پسماندہ ہی ہے۔ 20 سے 30 فٹ کی گزرگاہوں کو کمرشلائز کرنے پر سوال اٹھایا۔صدر چیمبر نے مزید کہا کہ 12سے 15لاکھ روپے فی کنال کی زمینوں پر موجودہ ڈی سی ریٹس کے مطابق 75 سے 85 لاکھ روپے فی کنال ٹیکس ادا کرنے کو کہا جا رہا ہے، جو ممکن نہیں۔ یہاں زیادہ تر کاٹیج انڈسٹریز اور چھوٹی فیکٹریاں ہیں جو لاکھوں خاندانوں کی کفالت کا ذریعہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دریا کنارے سڑک کے منصوبے میں زمینیں حاصل کرنے سے متعلق بھی مالکان غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ مارکیٹ ریٹس میں حالیہ برسوں میں اضافہ ہوا ہے، اور لوگ اپنی جمع پونجی سے یہ پراپرٹیز خرید چکے ہیں، جس کی وجہ سے پریشانی بڑھ گئی ہے۔سابق صدر لاہور چیمبر میاں انجم نثار نے کہا کہ روڈا کا قیام چند سال قبل ہوا جبکہ یہاں کی انڈسٹری کئی دہائیوں سے موجود ہے۔
موجودہ قوانین صرف نئی انڈسٹری پر لاگو کیے جائیں جبکہ پرانی انڈسٹری کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔سابق صدر محمد علی میاں نے کہا کہ ڈی سی ریٹس اور مارکیٹ ریٹس میں فرق کی وجہ سے تاجروں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ لاہور چیمبر اس حوالے سے ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے تاکہ تمام ادارے مل کر مسئلے کا حل نکال سکیں۔








