مکئی کی بہتر پیداوار کیلئے کونپل کی مکھی، تنے کی سنڈی، تیلے اور امریکن و لشکری سنڈی کا خاتمہ ضروری ہے، زرعی ماہرین

فیصل آباد۔ 25 نومبر (اے پی پی):پلانٹ پروٹیکشن، پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول آف پیسٹی سائیڈزمحکمہ زراعت کے ماہرین نے کہاہے کہ مکئی کی کونپل کی مکھی، تنے کی سنڈی، چست تیلے، سست تیلے، امریکن سنڈی، لشکری سنڈی اور دیمک کے باعث پاکستان میں مکئی کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہورہا ہے لہٰذاان کیڑوں کی شناخت، مختصر اً دوران زندگی اور نقصان پہنچانے کے طریقوں کو مد نظر …

فیصل آباد۔ 25 نومبر (اے پی پی):پلانٹ پروٹیکشن، پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول آف پیسٹی سائیڈزمحکمہ زراعت کے ماہرین نے کہاہے کہ مکئی کی کونپل کی مکھی، تنے کی سنڈی، چست تیلے، سست تیلے، امریکن سنڈی، لشکری سنڈی اور دیمک کے باعث پاکستان میں مکئی کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہورہا ہے لہٰذاان کیڑوں کی شناخت، مختصر اً دوران زندگی اور نقصان پہنچانے کے طریقوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کا انسداد ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ مختلف ضرررساں کیڑوں کے حملوں کے باعث پاکستان میں مکئی کی پیداوار دوسرے ممالک کی نسبت کئی گنا کم ہے جس پر کاشتکاروں کو کونپل کی مکھی، تنے کی سنڈی، چست و سست تیلے، امریکن و لشکری سنڈی کے فوری خاتمہ کیلئے کیمیائی انسداد کی طرف توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکار کونپل کی مکھی کے انسداد کیلئے ٹرائی ایزو فاس 40 ای سی 600 ملی لیٹر فی ایکڑ، فلووالینیٹ 20ای سی 175 ملی لیٹر فی ایکڑ ایڈوانٹیج 20ای سی 250ملی لیٹروغیرہ فی ایکڑ کے حساب سے سپرے کریں۔

انہوں نے کہاکہ چست تیلے و سست تیلے سے بچاؤ کیلئے امیڈا کلوپرڈ 200 ایس ایل کی 100ملی لیٹر مقدار فی ایکڑ کے حساب سے سپرے کرنے کے بھی مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ امریکن سنڈی اور لشکری سنڈی کے کیمیائی انسداد کیلئے ایما میکٹن بنزوایٹ 0.19ای سی 200ایم ایل فی ایکڑ اور انڈوکسا کارب 240ایس ای 175 ملی لیٹر فی ایکڑ جبکہ دیمک کے خاتمہ کیلئے کلور پائری فاس 40ای سی 1500ملی لیٹر فی ایکڑ کے حساب سے استعمال کی جائے۔