اقوام متحدہ ۔26نومبر (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے آئندہ سیکرٹر ی جنرل کے انتخاب کا باضابطہ آغاز ہوگیا، جب رکن ممالک کو یکم جنوری 2027 سے منصب سنبھالنے والے امیدواروں کی نامزدگی کی دعوت دی گئی۔سلامتی کونسل کے موجودہ صدر اور سیرا لیون کے سفیر مائیکل عمران کانو اور جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیربوک کی جانب سے جاری مشترکہ خط کے ذریعے نامزدگیوں کی درخواست کی گئی، جس کے …
اقوامِ متحدہ نے نئے سیکرٹری جنرل کے انتخاب کے عمل باضابطہ آغاز کردیا

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔26نومبر (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے آئندہ سیکرٹر ی جنرل کے انتخاب کا باضابطہ آغاز ہوگیا، جب رکن ممالک کو یکم جنوری 2027 سے منصب سنبھالنے والے امیدواروں کی نامزدگی کی دعوت دی گئی۔سلامتی کونسل کے موجودہ صدر اور سیرا لیون کے سفیر مائیکل عمران کانو اور جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیربوک کی جانب سے جاری مشترکہ خط کے ذریعے نامزدگیوں کی درخواست کی گئی، جس کے ساتھ ہی انتونیو گوتریش کے ممکنہ جانشین کے انتخاب کی دوڑ شروع ہوگئی۔
جنرل اسمبلی کی صدر بیربوک نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ہمارا انتخاب اس بات کا مضبوط پیغام دے گا کہ اقوامِ متحدہ کے طور پر ہم کون ہیں اور کیا واقعی دنیا کے تمام لوگوں کی خدمت کرتے ہیں۔انتخابی عمل کئی ماہ تک جاری رہے گا اور سلامتی کونسل میں متعدد مراحل کی رائے دہی کے بعد 15 رکنی کونسل کسی ایک امیدوار کے نام کی منظوری دے گی، جسے پھر حتمی توثیق کے لیے جنرل اسمبلی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
مشترکہ خط میں کہا گیا کہ سیکرٹری جنرل کا عہدہ نہایت اہمیت کا حامل ہے اور اس کے لیے انتہائی اعلیٰ کارکردگی، قابلیت، دیانت داری اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مقاصد و اصولوں سے مضبوط وابستگی ضروری ہے۔متعدد رکن ممالک نے اس بار کسی خاتون کے انتخاب کا مطالبہ کیا ہے، جب کہ اقوامِ متحدہ کی قیادت نے اپنے خط میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ آج تک کوئی خاتون سیکرٹر ی جنرل کے عہدے پر فائز نہیں ہوئی،
اور رکن ممالک سے خواتین امیدواروں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی اپیل کی۔تاحال کئی شخصیات اس منصب کی دوڑ میں شامل ہونے کا اعلان کر چکی ہیں، جن میں سابق چلی کی صدر مشیل بیچلیٹ، انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ اور ارجنٹینا سے تعلق رکھنے والے رافیل گروسی، اور کاستاریکا کی ربیکا گرینسپن شامل ہیں جو فی الحال اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی (یواین سی ٹی اے ڈی کی سربراہ ہیں۔
امیدواروں کے لیے ضروری ہے کہ انہیں کسی ریاست یا ریاستوں کے گروہ کی جانب سے نامزد کیا جائے، اور وہ اپنا ویژن اسٹیٹمنٹ اور فنڈنگ کے ذرائع فراہم کریں۔روایتی جغرافیائی ترتیب کے مطابق اس بار لاطینی امریکا کی باری بنتی ہے، اگرچہ یہ روایت ہر بار نہیں نبھائی جاتی۔ خط میں علاقائی تنوع کی اہمیت تو بتائی گئی ہے لیکن کسی مخصوص خطے کی پابندی نہیں لگائی گئی۔2016 کے انتخاب میں پہلی بار اپنائے گئے شفاف طریقۂ کار کے تحت امیدواروں کے عوامی انٹرویوز بھی ممکن ہیں۔
سلامتی کونسل جولائی کے آخر تک باضابطہ انتخابی مرحلہ شروع کرے گی، جبکہ پانچ مستقل رکن ممالک ، امریکا، چین، روس، برطانیہ اور فرانس اپنے ویٹو کے باعث انتخابی عمل میں کلیدی کردار رکھتے ہیں۔انتونیو گوتریش، جو اقوامِ متحدہ کے نویں سیکریٹر ی جنرل ہیں، جنوری 2017 سے عہدے پر فائز ہیں۔








