انقرہ ۔26نومبر (اے پی پی):ترکیہ میں سیاحتی مقصد کے لیے آئے ایک خاندان کے چار افراد کی پر اسرار ہلاکت ہو گئی ہے۔ٹی آر ٹی کے مطابق یہ خاندان جرمنی سے استنبول کی سیر کے لیے نومبر کے وسط میں آیا تھا، شبہ ہے کہ اس سیاح خاندان کے چار افراد کی ہلاکت کیڑے مار دوائی کی صورت میں چھڑکی گئی گیس سے ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں ابتدائی رپورٹ …
ترکیہ میں جرمن سیاح خاندان کے چار افراد کی پر اسرار ہلاکت،تحقیقات جاری

مزید خبریں
انقرہ ۔26نومبر (اے پی پی):ترکیہ میں سیاحتی مقصد کے لیے آئے ایک خاندان کے چار افراد کی پر اسرار ہلاکت ہو گئی ہے۔ٹی آر ٹی کے مطابق یہ خاندان جرمنی سے استنبول کی سیر کے لیے نومبر کے وسط میں آیا تھا، شبہ ہے کہ اس سیاح خاندان کے چار افراد کی ہلاکت کیڑے مار دوائی کی صورت میں چھڑکی گئی گیس سے ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں ابتدائی رپورٹ پراسیکیوٹر آفس کو بھجوا دی گئی ہے۔
‘غیر جانبدار ٹی وی خلق اور ویب سائٹ 124 کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں ان سیاحوں کی خوراک میں زہریلے اثرات کی تصدیق پائی گئی ہے۔ابتدائی تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ خدشہ ہے کہ ان کے کھانے میں فاسفین نامی خطر ناک گیس کے اثرات تھے۔یہ زہریلی گیس کیڑے مکوڑے مارنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔امکان ہے کہ جہاں یہ لوگ رہائش پذیر تھے وہاں کیڑے مار دوائی کا چھڑکاؤ ہوا تھا جس کے اثرات کمرے میں کہیں موجود تھے۔
ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس امر کا ثبوت ملا ہے کہ زہریلے کیمیکل والی پراڈکٹ ہوٹل سے استعمال کی گئی تھی، اس لیے یہ بات اب ٹھوس ثبوت کی بنیاد پر سامنے آرہی ہے کہ جرمن خاندان فاسفین گیس کی وجہ سے ہلاک ہوا ۔ مرنے والے خاندان کے دوبچوں کی عمریں تین اور چھ سال تھیں، ان بچوں کی موت پہلے ہوئی اور بعد ازاں ماں باپ بھی چل بسے۔ یاد رہے تفتیش کاروں نے سب سے پہلے فوڈ پوائزننگ کا شبہ ظاہر کیا تھا۔
سیاحت کے لیے آئے اس خاندان نے فوڈ سٹریٹ کا بھی وزٹ کیا تھا اور سیاحتی محلے بھی سیر کی تھی، تاہم بعد ازاں فوڈ پوئزننگ کا شبہ فوری طور ختم ہوگیا ۔پھر یہ بات سامنے آئی کہ جس ہوٹل میں اس خاندان کا قیام تھا وہ کیڑے مکوڑوں سے پیدا ہوانے والے انفیکشن سے نمٹنے لیے کیڑے مار ادویات استعمال کررہا تھا۔
یہ زہریلی گیس واش روم کے راستے ان کے کمرے میں داخل ہوئی اور یہ افسوسناک واقعہ پیش آگیا ۔پولیس نے اب تک گیارہ افراد کو حراست میں لیا ہے تاکہ کوتاہی کے مرتکب افراد کے خلاف عدالتی کارروائی کی شروعات ہو سکے، تفتیش کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔








