ملک میں مہنگائی کی شرح کم رہی، حکومت، سٹیٹ بینک اور نجی شعبہ مل کر ہی پائیدار اور شمولیتی ترقی پر مبنی مستقبل یقینی بناسکتے ہیں،گورنر ایس بی پی جمیل احمد

اسلام آباد۔26نومبر (اے پی پی):بینک دولت پاکستان (ایس بی پی)کے گورنر جمیل احمد نے زور دیا ہے کہ ملک کو قلیل مدتی معاشی استحکام کی کوششوں کے بجائے ہنگامی بنیاد پر ایک مضبوط، پائیدار اور بیرونی دنیا سے مربوط معاشی نمو کے ماڈل پر منتقل ہونا چاہئے،مہنگائی نہ صرف ہماری پیش گوئی کے مطابق کم ہوئی بلکہ توقع ہے کہ وسط مدت میں یہ 5 تا7 فیصد کے ہدف میں …

اسلام آباد۔26نومبر (اے پی پی):بینک دولت پاکستان (ایس بی پی)کے گورنر جمیل احمد نے زور دیا ہے کہ ملک کو قلیل مدتی معاشی استحکام کی کوششوں کے بجائے ہنگامی بنیاد پر ایک مضبوط، پائیدار اور بیرونی دنیا سے مربوط معاشی نمو کے ماڈل پر منتقل ہونا چاہئے،مہنگائی نہ صرف ہماری پیش گوئی کے مطابق کم ہوئی بلکہ توقع ہے کہ وسط مدت میں یہ 5 تا7 فیصد کے ہدف میں برقرار رہے گی،حکومت، سٹیٹ بینک اور نجی شعبہ ایک ساتھ مل کر ہی پائیدار اور شمولیتی ترقی پر مبنی مستقبل یقینی بناسکتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) کی جانب سے معیشت پر مذاکرات کے موضوع پر افتتاحی اجلاس کے موقع پر تقریب سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان باربارمعاشی نمواوراس کے بعداستحکام کے تکلیف دہ ادوار سے گزر چکا ہے اور موجودہ حالات طویل مدتی تبدیلی لانے کا حقیقی موقع فراہم کرتے ہیں بشرطیکہ پالیسیوں میں تسلسل برقرار رہے اور نجی شعبہ حالات سے مطابقت کے لحاظ سے ہراول دستے کا کردار ادا کرے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ موجودہ استحکام کا مرحلہ گزشتہ ادوار سے کیوں مختلف ہے۔ ا ن کا کہنا تھا کہ اب کلی معاشی نظم و ضبط ہم آہنگ اور مستقبل بین زری اور مالیاتی پالیسیوں کے ذریعے مستحکم ہوا اور اسی کی مدد سے اس قبل از وقت نرمی سے بچا جاسکا ہے جو ماضی میں استحکام کو متاثر کرتی رہی ۔ گورنر ایس بی پی نے کہا کہ مرکزی بینک کی پیش گوئی کی بہتر صلاحیت سے پالیسی سازوں کو قلیل مدتی اظہاریوں کے بجائے آٹھ سہ ماہیوں کے تخمینوں کی بنیاد پر فیصلے کرنے میں مدد ملی ۔

انہوں نے توثیق کی کہ مہنگائی نہ صرف ہماری پیش گوئی کے مطابق کم ہوئی بلکہ توقع ہے کہ وسط مدت میں یہ 5 تا7 فیصد کے ہدف میں برقرار رہے گی۔گورنر نے نے زور دیا کہ بہتر استحکام کا ایک اہم ستون بیرونی بفرز کا معیاری طور پر مضبوط ہونا ہے، ماضی کے مقابلے میں قرض پر مبنی آمدنی پر انحصار کے بجائے زرمبادلہ ذخائر میں حالیہ اضافہ سٹریٹجک زر مبادلہ خریداریوں اور کم ہوتے مستقبل کے واجبات کی وجہ سے ممکن ہوا ۔ان کا کہنا تھا کہ 2022ء سے اب تک سرکاری شعبے کے بیرونی قرضے تقریباً مستحکم رہے جبکہ بیرونی قرضوں اور جی ڈی پی کا تناسب 31 فیصد سے کم ہو کر 26 فیصد رہ گیا ہے، اسی مدت کے دوران سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 2.9 ارب ڈالر کی بہت نچلی سے بڑھ کر تقریباً 14.5 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکے ہیں جو اس میں تقریباً پانچ گنا اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس حقیقت کا اب پہلے سے زیادہ اعتراف کیا جا رہا ہے کہ پائیدار معاشی نمو کا حصول اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ماضی میں کھپت پر مبنی قلیل مدتی نمو کے ادوار کے بجائے پالیسی سازی کی سمت کا دوبارہ تعین کر کے اس کا رخ عوام کے لیے سماجی و معاشی خوشحالی کے طویل مدتی وژن کی طرف موڑ نہیں دیا جاتا، اس تبدیلی کی عکاسی حکومت اور سٹیٹ بینک کی جانب سے شروع کی گئی طویل مدتی اصلاحات سے ہوتی ہے جس کی بنیاد ملکی ساختہ پالیسی فریم ورک پررکھی گئی ہے۔ مالیاتی پہلو کے حوالے سے گورنر نے بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران حکومت مسلسل پرائمری سرپلس حاصل کرنے میں کامیاب رہی جس نے ملکی قرض کے اظہاریوں کو ایک پائیدار راستے پر ڈالنے میں مدد دی اور یہ وہ نتیجہ ہے جو ماضی میں بہت کم دیکھنے میں آیا ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت طویل مدتی ساختی اصلاحات بھی نافذ کر رہی ہے جن میں دستاویزیت اور ٹیکسوں کی بنیاد میں توسیع کے ذریعے ٹیکس اور جی ڈی پی کے تناسب میں اضافہ کرنا اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات شامل ہیں تا کہ توانائی کی لاگت میں کمی لائی جا سکے۔ گورنر نے کہا کہ ان اصلاحات کو سٹیٹ بینک کی جانب سے مالی وساطت کے مسائل حل کرنے اور ملک بھر میں مالی شمولیت کو بڑھانے کی کوششوں سے تقویت ملی ہے۔جمیل احمد نے مستقبل کے حوالے سے اس بات کو اجاگر کیاکہ پاکستان کے معاشی ماڈل کو تیزی اور مندی کے ایک اور چکر کو روکنے کے قابل ہونا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں حاصل ہونے والی نمو کی اوسطیں جو تقریباً 3 سے 4 فیصد کے آس پاس رہی ہیں اب 250 ملین سے زائد آبادی والے ملک کو سہارا نہیں دے سکتیں، پاکستان اب ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ انہوں نے نجی شعبے پر زور دیا کہ وہ زر اعانت یا ملکی منڈی کے تحفظ پر انحصار کرنے کے بجائے عالمی مسابقت کی راہ اختیار کرے۔گورنر سٹیٹ بینک نے کاروباری اداروں پر زور دیا کہ وہ عالمی قدری زنجیروں سے منسلک ہوں، پیداوار کو جدید بنائیں، امریکا، چین اور مشرق وسطیٰ کی معیشتوں جیسے شراکت داروں سے ملنے والے مواقع سے فائدہ اٹھائیں اور جدّت طرازی میں سرمایہ کاری کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہماری فرمیں خود کو تبدیلی سے ہم آہنگ کرنا چاہیں تو تیز رفتار ڈیجیٹلائزیشن، ماحول دوست تبدیلی اور عالمی قدری زنجیر کی نئی ترتیب ہمارے لیے نئے مواقع کے دروازے کھول سکتی ہے۔

انہوں نے کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں سے استفادہ کر کے مالی ذرائع میں تنوّع پیدا کریں اور مالی آپریشنز میں جدید ڈیجیٹل آلات اپنائیں۔ انہوں نے خاص طور پر قدری زنجیروں کی دستاویز یت پر زور دیا جو پیداواریت میں بہتری، مالیات تک رسائی اور قدری زنجیروں کی مضبوطی کے لیے لازمی اقدام ہے۔ اختتامی کلمات میں گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ ہمیں ایک ہی کام بار بار کرکے مختلف نتائج کی توقع نہیں رکھنی چاہئے، جو استحکام ہم نے حاصل کیا ہے اسے اب طویل مدتی ترقی کی بنیاد بننا چاہئے،حکومت، سٹیٹ بینک اور نجی شعبہ ایک ساتھ مل کر ہی پائیدار اور شمولیتی ترقی پر مبنی مستقبل یقینی بنا سکتے ہیں۔