معاشی استحکام، مسابقت اور مالی نظم و ضبط کے لئے ناقابلِ واپسی اصلاحات پر پیشرفت جاری ہے ،وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کا پاکستان بزنس کونسل کے زیراہتمام تقریب سے خطاب

اسلام آباد۔26نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت وسیع اور ناقابلِ واپسی اصلاحاتی ایجنڈے پر تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے جس کا مقصد معاشی استحکام کو مضبوط بنانا، مسابقت میں بہتری لانا اور مالی توازن کو بحال کرنا ہے۔بدھ کو یہاں پاکستان بزنس کونسل کے زیراہتمام ڈائیلاگ آن پاکستان اکانومی سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے ٹیکس اصلاحات، …

اسلام آباد۔26نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت وسیع اور ناقابلِ واپسی اصلاحاتی ایجنڈے پر تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے جس کا مقصد معاشی استحکام کو مضبوط بنانا، مسابقت میں بہتری لانا اور مالی توازن کو بحال کرنا ہے۔بدھ کو یہاں پاکستان بزنس کونسل کے زیراہتمام ڈائیلاگ آن پاکستان اکانومی سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے ٹیکس اصلاحات، ڈیجیٹل تبدیلی، سرکاری اداروں کی تنظیم نو اور قرضوں کے انتظام سمیت جاری اقدامات کا جائزہ پیش کیا جن کا مقصد پاکستان کو زیادہ پائیدار معاشی بنیاد فراہم کرنا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے کلی معیشت کےاستحکام کے محاذ پر نمایاں پیشرفت کی ہے اور معاشی بحالی کے ابتدائی آثار ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

انہوں نے سیمنٹ، کھاد، آٹوموبائل، موبائل فون مینوفیکچرنگ اور بڑی صنعتوں میں مثبت رجحانات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے او آئی سی سی آئی کے ایک حالیہ سروے کا ذکر بھی کیا جس میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں بہتری رپورٹ ہوئی ہے اور پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے موزوں ملک قرار دینے والے شرکا ء کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا۔ وزیر خزانہ نے توانائی، مائننگ، ٹیکنالوجی، لاجسٹکس اور آٹو سیکٹر میں عالمی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان کی اقتصادی سمت پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی ہورہی ہے۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت اصلاحات کے ڈیزائن سے عملی نفاذ کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ انہوں نے ٹیکس نظام میں جاری ہمہ جہتی تبدیلی کو اجاگر کیا جو لوگوں، طریقہ کار اور ٹیکنالوجی پر مبنی ایک جامع ڈیجیٹلائزیشن ایجنڈے کے ذریعے آگے بڑھ رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ٹیکس پالیسی کا اختیار ایف بی آر سے وزارتِ خزانہ کو منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ٹیکس پالیسی آفس مکمل طور پر فعال ہو چکا ہے اور ایک ایڈوائزری کونسل قائم کی جا رہی ہے جس میں ماہرینِ تعلیم اور بعد ازاں نجی شعبے کے نمائندے شامل ہوں گے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ اب سال میں صرف ایک بار ہونے والی بجٹ مشاورت کی بجائے پورا سال چیمبرز اور شعبہ جاتی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جائے گا جس سے پالیسی سازی زیادہ تحقیق اور شواہد کی بنیاد پر ہوگی۔وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ سرکاری اداروں اور وفاقی حکومت کی تنظیم نو کے عمل میں اہم پیشرفت ہو چکی ہے۔ وفاقی وزارتوں اور ماتحت اداروں میں سے نصف کی رائٹ سائزنگ کے تحت جانچ پڑتال ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 54 ہزار خالی آسامیوں کے خاتمے سے 56 ارب روپے سالانہ کی بچت ہو گی جبکہ کئی وزارتوں اور محکموں کے انضمام یا بندش کا عمل بھی جاری ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ اس عمل میں انسانی وسائل، قانونی اور مالی ذمہ داریوں کے باعث پیچیدگیاں موجود ہیں لیکن حکومت ان اصلاحات کو سیاسی اور ادارہ جاتی چیلنجز کے باوجود آگے بڑھانے کے لئے پُرعزم ہے۔انہوں نے ڈیجیٹل پاکستان کو وزیرِ اعظم کی ذاتی نگرانی میں چلنے والی ایک اہم ترجیح قرار دیا جس میں ڈیجیٹل پیمنٹس، ڈیجیٹل پبلک انفرااسٹرکچر اور سرکاری ادائیگیوں کی ڈیجیٹلائزیشن شامل ہیں۔ وزیر خزانہ نے زور دیا کہ پاکستان کو نقدی پر مبنی معیشت سے دستاویزی معیشت کی طرف منتقل کرنا ضروری ہے اور اس مقصد کے لئے تاجر ڈیجیٹلائزیشن، مالی شمولیت اور حکومتی عمل میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے لئے واضح اہداف مقرر کئے گئے ہیں۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے قرضوں کے انتظام میں بہتری کو ایک اور بڑی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیٹ مینجمنٹ آفس کو بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید بنایا جا رہا ہے اور اصلاحات کے نتیجے میں پاکستان کے قرض کی اوسط معیاد چار سال تک بڑھ گئی ہے جس سے ری فنانسنگ کے خطرات کم ہوئے ہیں اور مجموعی قرضوں کے اخراجات بھی کم ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ جولائی 2024 سے نئی کنٹری بیوٹری پنشن سکیم نافذ ہے جس میں 9 ہزار سے زائد سرکاری ملازمین شامل ہو چکے ہیں جبکہ پنشن کے مالی دباؤ میں کمی کے لئے پیرامیٹرک اصلاحات بھی کی گئی ہیں۔آئندہ ترجیحات بتاتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ گیارہویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہو گا اور امید ظاہر کی کہ صوبوں کے ساتھ تعمیری رابطہ قومی مالیاتی معاہدہ کی روح کے مطابق جاری رہے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے پہلے پانڈا بانڈ جاری کرنے کی جانب بھی بڑھ رہا ہےاور امید ہے کہ چینی نئے سال سے قبل ممکن ہو جائے گی۔

وزیر خزانہ نے یہ بھی تصدیق کی کہ ڈیجیٹل اور کرپٹو معیشت کے لئے پاکستان کا ریگولیٹری فریم ورک تکمیل کے قریب ہے اور پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی کی عملی تشکیل جاری ہے تاکہ کرپٹو سے متعلق سرگرمیاں باضابطہ اور مؤثر نگرانی کے دائرے میں آئیں۔وزیرخزانہ نے پاکستان بزنس کونسل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ایک جامع پروگرام پیش کیا ہے جو فوری معاشی ترجیحات کے ساتھ ساتھ پاکستان کے طویل المدتی ساختی اور وجودی چیلنجزجیسے آبادی کا دباؤ اور موسمیاتی تبدیلی کا احاطہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی سفارشات کی تیاری کے لئے حقائق اور تحقیق پر مبنی تجزیہ نہایت اہم ہے۔

سوال و جواب کے دوران وزیر خزانہ نے پاکستان کی ترقی کی سمت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ سیلابوں کے باوجود رواں سال پاکستان کی شرحِ نمو تقریباً 3.5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ انہوں نے اگلے دو سے تین سال کے لئے چار فیصد کے لگ بھگ اور درمیانی مدت میں 6 سے 7 فیصد تک نمو کے امکانات ظاہر کئے بشرطیکہ زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں مضبوطی برقرار رہے۔انہوں نے ترسیلات اور بیرونی آمدنی پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ باضابطہ ذرائع سے ماہانہ ترسیلات میں استحکام آیا ہے، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی کارکردگی مضبوط ہے، اور ادارہ جاتی سرمایہ کاری بہتر ہوئی ہے۔

ٹیکسوں کے بوجھ، توانائی کے اخراجات اورمہنگی فنانسنگ سے متعلق خدشات پر بات کرتے ہوئے سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت صنعت کے مسائل سے پوری طرح آگاہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی حالات میں بہتری سے فنانسنگ اخراجات کم ہوں گے مگر ساتھ ہی کارپوریٹس کو مشورہ دیا کہ وہ بینک قرضوں سے آگے بڑھ کر کیپٹل مارکیٹس سے بھی طویل مدتی اور مسابقتی سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کریں۔انہوں نے ٹیکس اور توانائی کے شعبوں میں ڈھانچہ جاتی مسائل کے حل کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ حالیہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹس کے اثرات کو قریب سے مانیٹر کرنے کے لئے جائزہ نظام فعال ہیں۔سرمایہ کاری کے ماحول اور سکیورٹی سے متعلق غیر ملکی سرمایہ کاروں کے سوالات پر وزیر خزانہ نے کہا کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا اور سکیورٹی، میکرو اکنامک استحکام اور منافع کی واپسی جیسے بنیادی معاملات وہ بنیادی تقاضے ہیں جن کے بغیر پاکستان عالمی سرمایہ کاری کو نہ تو متوجہ کر سکتا ہے اور نہ برقرار رکھ سکتا ہے۔

انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت پالیسی اقدامات کا غیر جذباتی اور شفاف جائزہ لیتی رہے گی اور کاروباری برادری کی رائے کے لئے ہمیشہ کھلی رہے گی۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے اختتام پر حکومت کے شواہد پر مبنی پالیسی سازی، نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری اور ناقابلِ واپسی اصلاحات کے تسلسل کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ پاکستان کو پائیدار معاشی بحالی اور طویل المدتی ترقی کی راہ پر گامزن رکھا جا سکے۔