اسلام آباد۔26نومبر (اے پی پی):بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی سنٹر آ ف پالیسی ریسرچ اور اَنڈر سٹینڈنگ چائنا فورم (یو سی ایف ) کے باہمی اشتراک سے منعقدہ اہم پالیسی ڈائیلاگ "ریڈیفائننگ ریجنل کنکٹیویٹی: پاکستان چین فرینڈشپ اِن دی نیو جیو اکنامک منظرنامہ میں بدھ کو ماہرین، سفارتکاروں اور پالیسی سازوں نے خطے کے اقتصادی منظرنامے کو بدلنے کے لئے پاکستان چین تعاون اور اپ گریڈڈ سی پیک فریم ورک کے …
سی پیک ٹو کی وژن سازی اور نئے جیو اکنامک دور میں پاکستان کے کردار پرپالیسی ڈائیلاگ ،جیو پولیٹیکل چیلنجز کو اقتصادی مواقع میں تبدیل کرنے کے عملی راستوں کی نشاندہی

مزید خبریں
اسلام آباد۔26نومبر (اے پی پی):بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی سنٹر آ ف پالیسی ریسرچ اور اَنڈر سٹینڈنگ چائنا فورم (یو سی ایف ) کے باہمی اشتراک سے منعقدہ اہم پالیسی ڈائیلاگ "ریڈیفائننگ ریجنل کنکٹیویٹی: پاکستان چین فرینڈشپ اِن دی نیو جیو اکنامک منظرنامہ میں بدھ کو ماہرین، سفارتکاروں اور پالیسی سازوں نے خطے کے اقتصادی منظرنامے کو بدلنے کے لئے پاکستان چین تعاون اور اپ گریڈڈ سی پیک فریم ورک کے کردار کا جامع جائزہ لیا۔ اجلاس کا مقصد خطے میں موجود جیو پولیٹیکل چیلنجز کو اقتصادی مواقع میں تبدیل کرنے کے عملی راستوں کی نشاندہی تھا۔

بی سی پی آر کی ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر زینب احمد اور یو سی ایف کے ڈاکٹر حسن داؤد کی ابتدائی گفتگو سے ہوا جس نے بدلتے ہوئے عالمی ماحول میں پاکستان کے سٹریٹجک آپشنز کے بارے میں تفصیلی مکالمے کی بنیاد رکھی۔سابق مشیر قومی سلامتی اور وائس چانسلر بی این یو ڈاکٹر معید یوسف نے اپنے خطاب میں علاقائی کنکٹیویٹی کے لئے ایک حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی پیش کی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کو ’’یا یہ یا وہ‘‘ کے انتخاب کے بجائے متوازن شراکت داری کی ضرورت ہے۔انہوں نے ’’چائنا–ساؤتھ ایشیا + سینٹرل ایشیا‘‘ اقتصادی ماڈل کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ تعاون پر مبنی جیو اکنامکس پاکستان کو امداد پر انحصار کرنے والی ریاست سے ترقی پر مبنی ریاست بنا سکتا ہے۔

ان کے مطابق جب یہ خطہ اقتصادی طور پر مربوط ہوگا تو بھارت بھی باہر رہنے کے نقصانات کو سمجھتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی راہ پر آسکتا ہے۔پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے اپنے کلیدی خطاب میں سی پیک کی کامیابیوں اور مستقبل کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالی۔انہوں نے بتایا کہ سی پیک کے تحت 25.93 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری، 8,000 میگاواٹ بجلی کی پیداوار اور 2 لاکھ 61 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا کئے گئے۔انہوں نے سی پیک کو ’’سی پیک 2.0‘‘ میں داخل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے نئے صنعتی منصوبے پیش کئے جن میں ہائیئر کا 400 ملین ڈالر کا ہوم اپلائنس انڈسٹریل پارک ،چیلنج گروپ کا 150 ملین ڈالر کا ٹیکسٹائل انڈسٹریل پارک شامل ہیں۔ چینی سفیر نے کہا کہ چین قراقرم ہائی وے کی ری الائنمنٹ اور گوادر پورٹ کو علاقائی کنکٹیویٹی حب بنانے کے لئے سرگرمی سے کام کرے گا۔
انہوں نے وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ تھرڈ پارٹی کوآپریشن کو بھی تیز کرنے کا عندیہ دیا۔سابق صدر آزاد جموں و کشمیر اور سابق سفیر برائے امریکہ و چین سردار مسعود خان نے کہا کہ دنیا ایک نئے عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔انہوں نے پاکستان کے لئے ایک مضبوط دفاعی ڈیٹرنس اور عالمی طاقتوں کے درمیان متوازن تعلقات کو ضروری قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو خود کو ایک فیصلہ کن اور باوقار ریاست کے طور پر تصور کرنا ہوگا۔ڈاکٹر حسن داؤد کی میزبانی میں پہلے سیشن میں خطے میں تعاون، امن اور کنکٹیویٹی کے جیو اکنامک پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔سفیر مسعود خالد نے کہا کہ سی پیک نے پاکستان میں صنعتی ترقی کے بارے میں صحت مند مکالمہ پیدا کیا ہے، غیر یقینی صورتحال پر قابو پانے کی ضرورت سب سے اہم ہے۔ہارون شریف (سابق وزیر مملکت) نے کہا کہ دنیا ملٹی لیٹرلزم اور یونلیٹرلزم کے سنگم پر کھڑی ہے۔
انہوں نے چار اہم سٹرکچرل مسائل کی نشاندہی کی باوقار اور جامع مواقع کی کمی ،کم پیداواری صلاحیت مقامی سرمایہ کاری میں ہچکچاہٹ ٹیکنالوجی کے سماجی اثرات شامل ہیں ۔انہوں نے جی 2 جی ماڈلز سے ذہنی تبدیلی کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔ڈاکٹر جسپال نے کہا کہ پاک–چین تعلقات کو حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے، ’’بینڈ ویگننگ‘‘ کوئی حل نہیں۔نسیم زہرہ (سینئر صحافی) نے کہا کہ بیانیہ جنگ کے اثرات گہرے ہیں، ’’کہانی‘‘ ہی اصل طاقت ہے۔سفیر رفعت مسعود نے کہا کہ علاقائی انضمام کی راہ میں سب سے بڑا چیلنج اندرونی فکری جمود ہے۔ راولپنڈی چیمبرکے عثمان شوکت نے کہا کہ اقتصادی سلامتی اب جیو پولیٹکس پر فوقیت اختیار کر رہی ہے، پاکستان کو پیشگوئی کے قابل ریگولیٹری ماحول درکار ہے۔دوسرا سیشن سی پیک سے علاقائی تعاون تک تھا۔ڈاکٹر زینب کی میزبانی میں دوسرے سیشن میں عملی اقدامات اور پالیسی نفاذ پر گفتگو ہوئی۔

ریئر ایڈمرل (ر)جاوید اقبال نے کہا کہ پاکستان کی 90 فیصد تجارت سمندر پر انحصار کرتی ہے، گوادر پورٹ کو مکمل علاقائی تجارتی مرکز بنایا جا سکتا ہے، یہاں تک کہ مقامی سطح پر مرچنٹ شپ بنانے کی بھی گنجائش موجود ہے۔سفیر جوہر سلیم نے کہا کہ افغانستان سے درآنے والی دہشت گردی کے واقعات 2019ء کے 284 سے بڑھ کر 2025ء میں 526 سے زائد ہو چکے ہیں ، یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ڈاکٹر طلعت شبیر نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم یوریشیائی کنکٹیویٹی میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔
اعجاز حیدر (سینئر صحافی) نے کہا کہ سی پیک کی پالیسی سازی میں مقامی سٹیک ہولڈرز کو شامل کرنا ناگزیر ہے۔سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر نے اپنے خطاب میں ’’جدیدیت کی راہ میں کراس سیکٹرل مزاحمت‘‘ کو سب سے بڑا چیلنج قرار دیا۔اجلاس اس نتیجے پر پہنچا کہ پاکستان ایک تاریخی موڑ پر کھڑا ہے جہاں سی پیک 2.0 نہ صرف معاشی ترقی کا راستہ کھول سکتا ہے بلکہ پاکستان کی عالمی کردار سازی میں بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔پاکستان اور چین اپنے سفارتی تعلقات کے 75 سال پورے کرنے جا رہے ہیں اور مقررین کے مطابق یہ شراکت داری خطے کے مستقبل کے لئے پہلے سے کہیں زیادہ اہم بن چکی ہے۔








