اسلام آباد۔27نومبر (اے پی پی):خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل(ایس آئی ایف سی) کی مؤثر سہولت کاری سے بلیو اکانومی سے مستفید ہونے کی حکمت عملی تیارکر لی گئی،وزارتِ سمندری امور پاکستان کا "Maritime @100" پروگرام، 2047 تک پاکستان کو بلیو اکانومی ہب بنانے کے عزم کا مظہر ہے ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان نے شپنگ اور ماہی گیری کے شعبوں سے استفادہ حاصل کرنے کیلئے 100 ارب ڈالر کے ترقیاتی …
ایس آئی ایف سی کی مؤثر سہولت کاری سے بلیو اکانومی سے مستفید ہونے کی حکمت عملی تیار،وزارتِ سمندری امور کا میری ٹائم پروگرام2047 تک پاکستان کو بلیو اکانومی ہب بنانے کے عزم کا مظہر

مزید خبریں
اسلام آباد۔27نومبر (اے پی پی):خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل(ایس آئی ایف سی) کی مؤثر سہولت کاری سے بلیو اکانومی سے مستفید ہونے کی حکمت عملی تیارکر لی گئی،وزارتِ سمندری امور پاکستان کا "Maritime @100” پروگرام، 2047 تک پاکستان کو بلیو اکانومی ہب بنانے کے عزم کا مظہر ہے ۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان نے شپنگ اور ماہی گیری کے شعبوں سے استفادہ حاصل کرنے کیلئے 100 ارب ڈالر کے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کردیا ہے ،آئندہ تین سال میں پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے بیڑے میں مزید 15 جہاز شامل کیے جائیں گے۔پورٹ قاسم میں پہلے گرین شپ ریپئر اور ری سائیکلنگ یارڈ “Sea to Steel” کے قیام کا فیصلہ کیا گیاہے۔
گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں 43 ملین ڈالر کا جدید کاری پروگرام حفاظتی معیار کو یقینی بنائے گا۔نیشنل فشریز پالیسی 2025–2035 کے تحت برآمدات، ڈیپ سی فشنگ اور جدید سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے،قومی شپنگ بیڑا مستحکم ہونے سے ملکی برآمدات اور زرِمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا
،منصوبے سے سرمایہ کاری اور سمندری صنعت میں روزگار کے بیش بہا مواقع پیدا ہوں گے۔ایس آئی ایف سی کی معاونت سے بلیو اکانومی منصوبے ملکی معیشت کی بحالی میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔








