سیالكوٹ۔ 27 نومبر (اے پی پی):اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع سمبڑیال ڈاکٹر افتخار حسین بھٹی نے کہا ہے کہ گندم کی فصل کے لئے بروقت آبپاشی انتہائی اہمیت کی حامل ہے، گندم کی نشو ونما کے وقت پانی فراہم نہ کیا جائے تو اس کی بڑھوتری متاثر ہوتی ہے اور پیدوار میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ انہوں نے جمعرات کو گندم کے کاشتکاروں کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ …
گندم کی فصل کے لئے بروقت آبپاشی انتہائی اہمیت کی حامل ہے، اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت سمبڑیال

مزید خبریں
سیالكوٹ۔ 27 نومبر (اے پی پی):اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع سمبڑیال ڈاکٹر افتخار حسین بھٹی نے کہا ہے کہ گندم کی فصل کے لئے بروقت آبپاشی انتہائی اہمیت کی حامل ہے، گندم کی نشو ونما کے وقت پانی فراہم نہ کیا جائے تو اس کی بڑھوتری متاثر ہوتی ہے اور پیدوار میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔
انہوں نے جمعرات کو گندم کے کاشتکاروں کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ گندم کی فصل کو 3سے4 مرتبہ پانی دینے سے بھر پور پیداوار بھی حاصل کی جا سکتی ہے،گندم کی فصل کو سب سے پہلے پانی کی اس وقت ضرورت ہوتی ہے جب پودا جھاڑ بنارہا ہوتا ہے اور بروقت کاشت کی گئی فصل میں یہ حالت کاشت کے 20 تا25 دن بعد شروع ہوتی ہے اس لئے اگر اس موقع پر فصل کو پانی نہ دیا جائے تو جڑوں کی نشوونما ٹھیک نہیں ہوتی جس کی وجہ سے شگوفے کم بنتے اور سٹوں کی تعداد کم رہ جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر بوائی کے وقت وتر خشک ہوتو پہلی آبپاشی پہلے بھی کی جاسکتی ہے کیونکہ اس کا پیداوارپر کوئی برا اثر نہیں ہوگا بلکہ جو بیج کم نمی کی وجہ سے نہیں اگ پائے وہ بھی اگ آئیں گے اور جلدی شگوفے بنانا شروع کردیں گے۔
انہوں نے بتایاکہ گندم کی فصل میں آبپاشی کے لحاظ سے دوسرا اہم مرحلہ اس وقت شروع ہوتاہے جب فصل گوبھ یا سٹے نکالنے کے قریب ہواور یہ نازک دور 80 تا90 دن بعد شروع ہوتا ہے اس لئے اگر اس مرحلے پر فصل کو پانی کی کمی آجائے تو زرپاشی کا عمل متاثر ہوتا ہے جس کی وجہ سے سٹوں میں دانے کم بنتے ہیں اور پیداوار میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے مزید بتایا کہ تیسری آبپاشی بالعموم اس وقت کی جاتی ہے جب دانہ مکمل بن جائے یا دودھیا حالت میں ہواس لئے اگر اس موقع پر پانی نہ دیا جائے تو دانہ کمزور رہ جاتا ہے۔
انہوں نے بتایاکہ چوتھی آبپاشی اس صورت میں کی جاتی ہے جب موسم اچانک گرم ہوجائے، عموما اپریل کے پہلے ہفتے میں پچھیتی کاشت کی گئی فصل میں اپریل کے دوسرے یا تیسرے ہفتے میں دانہ تقریبا گوند نما حالت میں ہوتا ہے اس حالت میں پانی نہ دینے کی صورت میں دانہ کمزور اور پتلا رہ جاتا ہے جس کی وجہ سے پیداوارمیں کمی واقع ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکار مزید مشاورت کے لئے ماہرین زراعت یا محکمہ زراعت کے فیلڈ سٹاف سے بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔








