گرنزی۔27نومبر (اے پی پی):گرنزی کے ممتاز ایتھلیٹ الاسٹر چالمرز نے 2030 کامن ویلتھ گیمز کے میزبان کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایونٹ کا مستقبل واضح ہونا کھلاڑیوں کے لیے بڑی خوشخبری ہے۔ بھارتی شہر احمدآباد کو صدی کی تکمیل پر منعقد ہونے والے کامن ویلتھ گیمز کے انعقاد کا اعزاز دیا گیا ہے، جہاں 15 سے 17 کھیلوں کو پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔25 سالہ …
2030 کامن ویلتھ گیمز کے میزبان کا اعلان، گرنزی کے ایتھلیٹ الاسٹر چالمرز کا خیرمقدم

مزید خبریں
گرنزی۔27نومبر (اے پی پی):گرنزی کے ممتاز ایتھلیٹ الاسٹر چالمرز نے 2030 کامن ویلتھ گیمز کے میزبان کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایونٹ کا مستقبل واضح ہونا کھلاڑیوں کے لیے بڑی خوشخبری ہے۔ بھارتی شہر احمدآباد کو صدی کی تکمیل پر منعقد ہونے والے کامن ویلتھ گیمز کے انعقاد کا اعزاز دیا گیا ہے، جہاں 15 سے 17 کھیلوں کو پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔25 سالہ ایتھلیٹ الاسٹر چالمرز نے برمنگھم 2022 میں 400 میٹر ہرڈلز میں کانسی کا تمغہ جیت کر گرنزی کے لیے ایتھلیٹکس میں پہلا اعزاز حاصل کیا تھا۔
انہوں نے بی بی سی ریڈیو گرنزی سے گفتگو میں کہا کہ آسٹریلیا کی جانب سے 2026 گیمز کی میزبانی چھوڑنے کے بعد صورتحال غیر یقینی تھی، تاہم اب آئندہ برس اور 2030 دونوں ایڈیشن پر واضح پیش رفت حوصلہ افزا ہے۔آئندہ سال گلاسگو 2026 ایک محدود طرز کے ایڈیشن کی میزبانی کرے گا، جبکہ 20 رکنی گرنزی دستے میں شامل ہونے کی توقع رکھنے والے ایتھلیٹ الاسٹر چالمرز نے امید ظاہر کی کہ وہ 2030 میں بھی بہترین فارم میں رہیں گے۔ کامن ویلتھ گیمز وہ واحد عالمی مقابلہ ہے جہاں گرنزی اپنی شناخت کے ساتھ شرکت کرتا ہے۔
الاسٹر چالمرز نے کہا کہ بعض کھیلوں،جیسے ٹرائی تھلون، بیڈمنٹن اور سکواش کا 2026 پروگرام سے اخراج افسوسناک ہے، کیونکہ بہت سے کھلاڑی سخت محنت کے باوجود اپنے ایونٹس میں شرکت سے محروم رہ جائیں گے۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ بھارت میں ہونے والے 2030 ایڈیشن میں تمام کھیلوں کی بحالی سے مقابلوں کی اصل روح واپس آئے گی۔
انہوں نے مزید کہاکہ گلاسگو نے مشکل وقت میں میزبانی کا فیصلہ کر کے اچھا کام کیا۔ کچھ کھیلوں کا شامل نہ ہونا مایوس کن ہے، مگر مجموعی طور پر گیمز کا کسی نہ کسی صورت جاری رہنا اہم ہے۔ 2030 میں اگر تمام کھیل واپس شامل ہو گئے تو کھلاڑیوں کے لیے وہ حقیقی کامن ویلتھ گیمز کا ماحول بحال ہو جائے گا۔
ایتھلیٹ الاسٹر چالمرز جو پانچ مرتبہ برطانوی چیمپئن رہ چکے ہیں اور اولمپک و ورلڈ چیمپئن شپ کے سیمی فائنل تک پہنچ چکے ہیں۔ چالمرز نے کہا کہ خوش قسمتی سے ایتھلیٹکس بنیادی کھیلوں میں شامل ہے، مگر وہ امید کرتے ہیں کہ باقی کھلاڑی بھی 2030 میں دوبارہ موقع حاصل کریں گے۔








