اسلام آباد۔27نومبر (اے پی پی):سرحدی بندش کی وجہ سے افغانستان بدترین معاشی وانتظامی بحران سے دوچار ہے۔دہشتگردوں کی پشت پناہی میں مصروف افغان طالبان داخلی بحران حل کرنے میں مکمل ناکام ہو گئے ہیں۔ عوام بنیادی ضروریات تک سے محروم ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ افغانستان داخلی بدانتظامی اور بحرانوں سے شدید عدم استحکام کا شکار ہیں۔ اقوامِ متحدہ ترقیاتی پروگرام برائے افغانستان کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں …
سرحدی بندش کی وجہ سے افغانستان بدترین معاشی وانتظامی بحران سے دوچار

مزید خبریں
اسلام آباد۔27نومبر (اے پی پی):سرحدی بندش کی وجہ سے افغانستان بدترین معاشی وانتظامی بحران سے دوچار ہے۔دہشتگردوں کی پشت پناہی میں مصروف افغان طالبان داخلی بحران حل کرنے میں مکمل ناکام ہو گئے ہیں۔ عوام بنیادی ضروریات تک سے محروم ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ افغانستان داخلی بدانتظامی اور بحرانوں سے شدید عدم استحکام کا شکار ہیں۔
اقوامِ متحدہ ترقیاتی پروگرام برائے افغانستان کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں 23 لاکھ سے زائد افغان شہریوں کو وطن واپسی نے شدید مشکلات کا شکار کر دیا، غربت، ناقص سہولیات اور بےروزگاری نے افغانستان پر غیرمعمولی دباؤ ڈال دیا ہے۔ محدود رسائی، پابندیاں اور تحفظ کے شدید خطرات کی بدولت افغان خواتین بےحد متاثر ہورہی ہیں۔
دیوالیہ معیشت کے ساتھ بھارتی سرمایہ کاروں کو رعایت نے افغانستان کے مستقبل پر سوال اٹھا دیئے ۔ قابض افغان طالبان کی ہٹ دھرمی نے افغانستان کو شدید داخلی بحران کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔








