گندم کی پچھیتی کاشت 10 دسمبر سے قبل مکمل کی جائے، محکمہ زراعت

سیالکوٹ۔1دسمبر (اے پی پی):اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت (توسیع) سیالکوٹ رانا سلیم شاد نے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ گندم کی پچھیتی کاشت 10 دسمبر سے قبل لازماً مکمل کر لیں تاکہ ممکنہ پیداواری نقصان سے بچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کاشت میں تاخیر کی صورت میں شگوفوں میں کمی، فصل کے جلد پکنے اور دانوں کے چھوٹے رہ جانے جیسے نقصانات سامنے آتے ہیں، اس لیے …

سیالکوٹ۔1دسمبر (اے پی پی):اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت (توسیع) سیالکوٹ رانا سلیم شاد نے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ گندم کی پچھیتی کاشت 10 دسمبر سے قبل لازماً مکمل کر لیں تاکہ ممکنہ پیداواری نقصان سے بچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کاشت میں تاخیر کی صورت میں شگوفوں میں کمی، فصل کے جلد پکنے اور دانوں کے چھوٹے رہ جانے جیسے نقصانات سامنے آتے ہیں، اس لیے جہاں ضروری ہو وہاں خشک بوائی بھی کی جائے۔اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پچھیتی گندم کے لیے بیج کی شرح 50 کلوگرام فی ایکڑ اور اُگاؤ کی شرح 85 فیصد سے زائد ہونی چاہیے جبکہ بیج کی گہرائی دو تا ڈھائی انچ رکھی جائے۔

آبپاش علاقوں میں زیادہ پیداوار کے لیے کمزور زمین میں دو بوری ڈی اے پی، دو بوری یوریا اور ایک بوری ایس او پی/ایم او پی فی ایکڑ، اوسط زمین میں ڈیڑھ بوری ڈی اے پی، پونے دو بوری یوریا اور ایک بوری ایس او پی/ایم او پی فی ایکڑ جبکہ زرخیز زمین کے لیے سوا بوری ڈی اے پی، ڈیڑھ بوری یوریا اور ایک بوری ایس او پی /ایم او پی فی ایکڑ کھاد استعمال کی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر فاسفورسی کھاد بوائی کے وقت نہ ڈالی جا سکے تو اسے پہلے پانی کے ساتھ شامل کیا جائے۔ پچھیتی کاشت کی صورت میں کھادوں کی مکمل مقدار بوقتِ کاشت ڈالنا انتہائی ضروری ہے۔