آبادی میں اضافہ معیشت پر دباؤ بڑھا رہا ہے ،بڑھتی ہوئی آبادی پاکستان کے طویل مدتی معاشی استحکام کیلئے خطرہ ہے ، وفاقی وزراء کا پاپولیشن سمٹ سے خطاب

اسلام آباد۔1دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزراء نے کہا ہے کہ آبادی میں اضافہ معیشت پر دباؤ بڑھا رہا ہے جبکہ بڑھتی ہوئی آبادی پاکستان کے طویل مدتی معاشی استحکام کے لئے خطرہ ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں پاپولیشن سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزرا، بین الاقوامی نمائندوں اور ماہرین نے آبادی میں بے لگام اضافے کو پاکستان کے بڑے چیلنجز میں سے ایک …

اسلام آباد۔1دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزراء نے کہا ہے کہ آبادی میں اضافہ معیشت پر دباؤ بڑھا رہا ہے جبکہ بڑھتی ہوئی آبادی پاکستان کے طویل مدتی معاشی استحکام کے لئے خطرہ ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں پاپولیشن سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزرا، بین الاقوامی نمائندوں اور ماہرین نے آبادی میں بے لگام اضافے کو پاکستان کے بڑے چیلنجز میں سے ایک قرار دیا۔پاپولیشن سمٹ میں آبادی، معیشت، کلائیمیٹ چینج اور ہیومن ڈویلپمنٹ کے حوالے سے اہم نکات پر تفصیلی بات ہوئی۔

اس موقع پر سینیٹر شیری رحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ آبادی کا مسئلہ پاکستان کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں آبادی تیز رفتار سے بڑھ رہی ہے جبکہ پینے کے پانی اور بنیادی سہولیات کی شدید کمی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کتنے بچے بھوک اور تعلیم سے محرومی کا شکار ہیں ۔شیری رحمان نے کہا کہ ہر سال ڈیڑھ ملین نئی ملازمتوں کی ضرورت ہے جبکہ آبادی میں اضافہ معیشت پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے وڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں کہا کہ پاکستان تاریخ کے اہم ترین ڈیموگرافک پوائنٹ پر کھڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے،سات اضلاع میں بچوں میں سٹنٹنگ کی شرح 50 فیصد سے زیادہ ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ آبادی میں بے ہنگم اضافہ پاکستان کے طویل مدتی معاشی استحکام کے لئے خطرہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت فیملی پلاننگ اور ہیومن ڈویلپمنٹ کیپٹل پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کے سامنے دو بڑے چیلنجز کلائمیٹ چینج اور آبادی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی نشستوں میں بھی انہیں کلائمیٹ اثرات پر گفتگو کرنا پڑتی ہے کیونکہ معیشت براہ راست موسمیاتی بحران سے متاثر ہوتی ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ مضبوط پالیسی اور اس پر عملدرآمد ہی مسائل کا حل ہے۔برٹش ہائی کمشنر جین میرٹ نے کہا کہ پاکستان کی آبادی 2.5 فیصد سالانہ شرح سے بڑھ رہی ہے،2050 تک ملک کو 6 کروڑ 80 لاکھ نوکریاں پیدا کرنا ہوگی،دو دہائیوں میں ایک لاکھ 50 ہزار نئے سکول درکار ہوں گے۔انہوں نے زور دیا کہ فیملی پلاننگ، خواتین کی صحت اور بہبود کے شعبوں میں تیزی لانا ضروری ہےاور اس کے لئے سیاسی عزم ناگزیر ہے۔