اسلام آباد۔1دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آبادی اور موسمیاتی خطرات سے موثر طور پر نمٹے بغیر پاکستان کی معاشی صلاحیت پوری نہیں ہو سکتی۔اسلام آباد میں ’’پاکستان پاپولیشن سمٹ 2025‘‘ کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان آبادی کے مسئلے کی نوعیت اور اس کے اثرات سے بخوبی آگاہ ہے تاہم اصل ضرورت …
آبادی اور موسمیاتی خطرات سے موثر طور پر نمٹے بغیر پاکستان کی معاشی صلاحیت پوری نہیں ہو سکتی، محمد اورنگزیب
اسلام آباد۔1دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آبادی اور موسمیاتی خطرات سے موثر طور پر نمٹے بغیر پاکستان کی معاشی صلاحیت پوری نہیں ہو سکتی۔اسلام آباد میں ’’پاکستان پاپولیشن سمٹ 2025‘‘ کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان آبادی کے مسئلے کی نوعیت اور اس کے اثرات سے بخوبی آگاہ ہے تاہم اصل ضرورت عملی اقدامات کی ہے۔
انہوں نے موسمیاتی فنانسنگ کی عالمی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پالیسی سازی کے ساتھ ساتھ بجٹ اور منصوبہ بندی میں ان ترجیحات کو شامل کرنا وزارت خزانہ کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے مذہبی رہنمائوں کی شرکت کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ معتبر علما نے آبادی مینجمنٹ سے متعلق کئی غلط فہمیاں دور کی ہیں اور اب پاکستان عملی اقدامات سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔سینیٹر اورنگزیب نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پہلے ہی معاشی نمو کو متاثر کر رہی ہے اور رواں سال کے سیلاب سے جی ڈی پی میں 0.5 فیصد کمی متوقع ہے۔
اسی طرح آبادی کا دبائو حقیقی معاشی فوائد کو محدود کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان آبادی جو کہ ملک کی 64 فیصد ہے،پاکستان کی ترقی کا اہم ستون ہے اور ڈیجیٹل معیشت میں فری لانسرز، آئی ٹی پروفیشنلز اور انوویٹرز اہم کردار ادا کریں گے۔انہوں نے پانچ سال سے کم عمر بچوں میں 40 فیصد سٹنٹنگ کو ’’ذہنی غربت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مستقبل کی افرادی قوت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
انہوں نے تعلیم خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم، غذائیت، صاف پانی، صفائی اور بہتر برتھ اسپیسنگ کو قومی ترجیحات قرار دیا۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ عالمی بینک نے اپنے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت آئندہ دس سال تک سالانہ دو ارب ڈالر فراہم کرنے کا عزم کیا ہے جو سٹنٹنگ میں کمی، تعلیمی معیار اور موسمیاتی تبدیلی پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ قابلِ سرمایہ کاری منصوبے تیار کرے۔
انہوں نے خود انحصاری کے اصول پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر بحران پر بیرونی امداد کی طرف نہیں دیکھ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ سیلاب کے لیے ریسکیو اور ریلیف اخراجات وفاق اور صوبوں نے مشترکہ طور پر بغیر بیرونی امداد کے پورے کیے۔
وزیر خزانہ نے عوامی و نجی شراکت داری اور نتائج پر مبنی فنڈنگ ماڈلز کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور سوشل فنانسنگ فریم ورک اور جلد متعارف ہونے والے پاکستان سکلز بانڈنوجوانوں کی سکل ڈویلپمنٹ کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔انہوں نےپاکستان پاپولیشن سمٹ 2025‘‘ کے انعقاد پر ڈان میڈیا گروپ کا شکریہ ادا کیا اور یقین دلایا کہ حکومت ماہرین کی رہنمائی اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے ذریعے پائیدار اور جامع ترقی کے لیے پرعزم ہے۔









