قاہرہ ۔3دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ ڈی ایٹ کے رکن ممالک علاقائی اقتصادی تعاون کو مضبوط کریں، ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) کو فعال کریں اور ڈیجیٹل تجارت میں ابھرتے ہوئے مواقع کو اپنائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو قاہرہ میں منعقدہ ڈی ایٹ تجارتی وزراء کونسل کے چوتھے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیشن میں وفاقی …
ڈی ایٹ کے رکن ممالک علاقائی اقتصادی تعاون کو مضبوط کریں، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان

مزید خبریں
قاہرہ ۔3دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ ڈی ایٹ کے رکن ممالک علاقائی اقتصادی تعاون کو مضبوط کریں، ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) کو فعال کریں اور ڈیجیٹل تجارت میں ابھرتے ہوئے مواقع کو اپنائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو قاہرہ میں منعقدہ ڈی ایٹ تجارتی وزراء کونسل کے چوتھے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیشن میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے ڈی ایٹ پروٹوکول آن ڈسپوٹ سیٹلمنٹ میکنزم پر بھی دستخط کیے جو کہ تنظیم کی ادارہ جاتی مضبوطی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
اپنے خطاب میں وفاقی وزیر تجارت نے مصر کی حکومت اور وزیر تجارت حسن الخطیب کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے آذربائیجان کو ڈی ایٹ کے سب سے نئے اور 9ویں رکن کے طور پر خوش آمدید کہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ اس کی شمولیت سے تنظیم کی اجتماعی اقتصادی طاقت میں اضافہ ہوگا۔جام کمال خان نے ڈی ایٹ جیسے علاقائی پلیٹ فارمز کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سپلائی چین میں رکاوٹوں، موسمیاتی تغیر اور اجناس کی منڈی کے اتار چڑھاؤ کو اجتماعی طور پر حل کرنا ہوگا۔ جام کمال نے ڈی ایٹ ترجیحی تجارتی معاہدے کے مرکزی کردار کو انٹرااڈی ایٹ تجارت کو وسعت دینے کے لئے نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا اور اس کے موثر نفاذ کو اس کے مکمل فوائد کو حاصل کرنے کے لیے ضروری قرار دیا۔
انہوں نے پی ٹی اے کو تمام اراکین کے لیے مکمل طور پر فعال اور مؤثر بنانے کے لیے طریقہ کار کو ہم آہنگ کرنے، آپریشنل چیلنجز کو حل کرنے اور دستاویزات کو ہموار کرنے کے لیے پاکستان کے عزم پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ موثر ٹرانسپورٹ کوریڈورز، ڈیجیٹل انضمام، اور متوقع ٹرانزٹ سسٹم علاقائی تجارت کی صلاحیت کو کھولنے کے لیے اہم ہیں اور پاکستان ان کوششوں میں تعمیری تعاون کے لیے تیار ہے۔ جام کمال نے کہا کہ فوڈ سیکیورٹی، ٹیکسٹائل، زراعت، توانائی، اور تکنیکی جدت کو ترجیحی شعبوں کے طور پر شامل کیا جائے جہاں مشترکہ تعاون لچک پیدا کر سکتا ہے اور طویل مدتی خوشحالی کو آگے بڑھا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈی ایٹ ، صلاحیت سازی اور بہترین پریکٹس شیئرنگ کے ذریعے تعاون کے لیے ایک مثال بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔وفاقی وزیر نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل خواندگی اور سرحد پار ای کامرس پلیٹ فارم میں سرمایہ کاری کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈی ایٹ کے شراکت داروں کے ساتھ فنٹیک، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور جدت پر مبنی اقدامات پر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے مشترکہ خوشحالی اور علاقائی انضمام کے لیے ڈی ایٹ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کے مکمل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ساتھ مل کر صحیح پالیسیوں اور شراکت داری کے مضبوط جذبے کے ساتھ، ہم ڈی ایٹ خطے کو اپنے تمام لوگوں کے لیے تجارت، ترقی اور مواقع کے ایک متحرک مرکز میں تبدیل کر سکتے ہیں۔








