اسلام آباد۔3دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائےانفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ انسپائرسیمی کنڈکٹر پروگرام کے تحت 7,200 پاکستانی نوجوانوں کو جدید سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کی تربیت دی جائے گی، ملک بھر کی یونیورسٹی کلسٹرز میں 9 آئی سی ڈیزائن لیبارٹریز قائم کی جا رہی ہیں۔ بدھ کووزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن سے جاری بیان کے مطابق جی ایس ایم اے اور فارن، …
وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ سے جی ایس ایم اے اور فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس کے وفد کی ملاقات

مزید خبریں
اسلام آباد۔3دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائےانفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ انسپائرسیمی کنڈکٹر پروگرام کے تحت 7,200 پاکستانی نوجوانوں کو جدید سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کی تربیت دی جائے گی، ملک بھر کی یونیورسٹی کلسٹرز میں 9 آئی سی ڈیزائن لیبارٹریز قائم کی جا رہی ہیں۔
بدھ کووزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن سے جاری بیان کے مطابق جی ایس ایم اے اور فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس (ایف سی ڈی او) کے اعلیٰ سطحی وفدنے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ سے اسلام آباد میں ملاقات کی جن میں لوئیزا اوڈیل (انوویشن اینڈ ٹیکنالوجی ایڈوائزر،ایف سی ڈی او )، مائیکل ان ون (سٹریٹجک پارٹنرشپ لیڈ، ٹیکنالوجی و انوویشن یونٹ،ایف سی ڈی او) اور کمبرلی برائون (گلوبل ہیڈ آف موبائل فار ہیومینیٹیرین،جی ایس ایم اے ) شامل تھیں ۔ ملاقات میں آفات کے دوران کنیکٹیویٹی، موبائل ایکو سسٹم کے کردار، ڈیجیٹل شمولیت اور پائیدار ترقی سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے پاکستان کے انوویشن اور سٹارٹ اپ منظرنامے اور ڈیجیٹل ترقی کے لیے حکومتی پالیسی اقدامات پر بھی اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے وزیراعظم شہباز شریف کے ڈیجیٹل نیشن پاکستان وژن پر روشنی ڈالتے ہوئے وفد کو انسپائرسیمی کنڈکٹر پروگرام پر بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت 7,200 پاکستانی نوجوانوں کو جدید سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کی تربیت دی جائے گی جبکہ ملک بھر کی یونیورسٹی کلسٹرز میں 9 آئی سی ڈیزائن لیبارٹریز قائم کی جا رہی ہیں جس سے پاکستان میں ہارڈویئر اور چپ ڈیزائن کے شعبہ کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
جی ایس ایم اے کے وفد نے جی ایس ایم اے موبائل فار ڈویلپمنٹ (ایم 4 ڈی) کے عالمی مشن، اس کے دائرہ کار اور پاکستان میں جاری حالیہ منصوبوں پر بریفنگ دی، خصوصاً موبائل انٹرنیٹ کے فروغ، ڈیجیٹل شمولیت اور کمزور طبقات کے لیے موبائل بیسڈ ڈیجیٹل حل کے ذریعہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفد نے پاکستان کے جامع ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور ریزیلینس پر مبنی جدت کے وژن کو سراہا۔جی ایس ایم اے اور فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس (ایف سی ڈی او) کے نمائندگان نے پاکستان میں سٹارٹ اپس کی معاونت کے حکومتی نظام، خصوصاً بریج سٹارٹ اور پاکستان سٹارٹ اپ فنڈ پروگرام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات پاکستان میں انٹرپرینیورشپ، جدت اور پائیدار ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے مضبوط حکومتی عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔








