پاکستان سمیت دنیا بھر میں معذور افراد کا عالمی دن 1982ء سے ہر سال 3 دسمبر کو منایا جاتا ہے

اسلام آباد۔3دسمبر (اے پی پی):پاکستان سمیت دنیا بھر میں معذور افراد کا عالمی دن اقوام متحدہ کی ہدایت پر 1982ء سے ہر سال 3 دسمبر کو منایا جاتا ہے، اس دن کو منانے کی باقاعدہ منظوری جنرل اسمبلی نے دی تھی۔اپنے قیام سے لے کر اب تک اقوام متحدہ نے تسلیم کیا ہے کہ انسانی خاندان کے تمام افراد کا فطری وقار اور مساوی اور ناقابل تنسیخ حقوق دنیا میں …

اسلام آباد۔3دسمبر (اے پی پی):پاکستان سمیت دنیا بھر میں معذور افراد کا عالمی دن اقوام متحدہ کی ہدایت پر 1982ء سے ہر سال 3 دسمبر کو منایا جاتا ہے، اس دن کو منانے کی باقاعدہ منظوری جنرل اسمبلی نے دی تھی۔اپنے قیام سے لے کر اب تک اقوام متحدہ نے تسلیم کیا ہے کہ انسانی خاندان کے تمام افراد کا فطری وقار اور مساوی اور ناقابل تنسیخ حقوق دنیا میں آزادی، انصاف اور امن کی بنیاد ہیں،دنیا کی تقریبا 10 فیصد آبادی یا 650 ملین افراد معذوری کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ایسے افراد بھی معاشرے کا کارآمد فرد ثابت ہوتے ہیں۔ہر سال 3 دسمبر کو خصوصی افراد کا حوصلہ بڑھانے کے لئے یہ دن منایا جاتا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق بچوں کی ذہنی معذوری کے اسباب میں دوران پیدائش بنیادی حفظان صحت کے اصولوں کو نظر انداز کرنے جیسی سادہ وجہ سے لے کر جنیٹکس اور جینز جیسی پیچیدہ وجوہات کو قصور وار ٹھہرایا جا سکتا ہے، ایسے بچوں کو علاج کے ساتھ ساتھ توجہ کی خصوصی ضرورت رہتی ہے۔خصوصی بچوں کے والدین کیلئے بھی یہ صورتحال کسی کڑے امتحان سے کم نہیں تاہم ان کے حوصلے بلند ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بچوں کو احساس کمتری کا شکار ہونے سے بچانے کیلئے انہیں مکمل توجہ دینے کی ضرورت ہے۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنہوں نے اپنی کسی کمی کو آڑے نہیں آنے دیا اور ہمت و حوصلہ سے حالات کا مقابلہ کیا۔معذور افراد کی صلاحیتوں پر اعتماد کیا جائے اور بہتر مواقع فراہم کئے جائیں تو یہ افراد بھی معاشرے کا ایک فعال حصہ بن سکتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا کی کل آبادی میں سے 15 فیصد خصوصی افراد پر مشتمل ہے جن کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔