اسلام آباد۔3دسمبر (اے پی پی):وفاقی محتسب اور ایشین امبڈ سمین ایسوسی ایشن (اے او اے ) کے صدر اعجاز احمد قریشی نے کہا ہے کہ معذوری کی بنیاد پر کسی بھی شخص کے ساتھ امتیازی سلوک انسان کے موروثی وقار اور انسا نی اقدار کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے پا ئیدار تر قی کی حکمت عملیوں میں معذوری سے متعلقہ مسائل پر مو ثر اقدا مات کی اہمیت پر …
معذوری کی بنیا دپر کسی کے ساتھ امتیا زی سلوک انسان کے مو روثی وقار اور انسا نی اقدار کے خلاف ہے،وفاقی محتسب

مزید خبریں
اسلام آباد۔3دسمبر (اے پی پی):وفاقی محتسب اور ایشین امبڈ سمین ایسوسی ایشن (اے او اے ) کے صدر اعجاز احمد قریشی نے کہا ہے کہ معذوری کی بنیاد پر کسی بھی شخص کے ساتھ امتیازی سلوک انسان کے موروثی وقار اور انسا نی اقدار کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے پا ئیدار تر قی کی حکمت عملیوں میں معذوری سے متعلقہ مسائل پر مو ثر اقدا مات کی اہمیت پر زور دیا۔ وفاقی محتسب نے ان خیا لا ت کا اظہار گز شتہ روز ”معذور افراد کے حقوق کے تحفظ میں محتسب اداروں کے کردار“ کے مو ضو ع پر ایک ویبینار میں افتتاحی خطاب کے دوران کیا۔
ترجمان کے مطابق یہ ویبینار ایشین امبڈ سمین ایسوسی ایشن (اے او اے ) کے زیراہتمام معذور افراد کے عالمی دن کے موقع پر منعقد کیا گیا تھا، جو ہر سال 3 دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ ویب نار سے جمہوریہ آذربائیجان میں انسانی حقوق کی کمشنر محترمہ سبینا علی یاف نے بھی خطاب کیا، علا وہ ازیں دسمبر 2006ء کواقوام متحدہ کے کنونشن میں معذور افراد کے حقوق سے متعلق منظور کیے گئے مختلف پہلوؤں کے بارے میں دو ماہرین کی جانب سے مقا لے بھی پیش کئے گئے۔
انسانی حقوق اور گڈ گورننس کے فروغ و تحفظ میں محتسب اداروں کے کردار پر زور دیتے ہوئے وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی نے کہا کہ عوام چونکہ سب سے بڑے سٹیک ہولڈر ہیں، اس لئے ان کے جائز مفادات کا تحفظ ضروری ہے لہٰذا کاروباری و صنعتی حلقوں کو چاہیے کہ وہ کاروباری سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے قوا عد کے مطا بق اپنی کارپوریٹ سماجی ذمہ دار یوں کو نظر انداز نہ کریں اور معذور افراد کے سلسلے میں انصاف، مساوات اور عدم امتیاز کے تقاضوں کا خیال رکھیں۔
ویبینار میں، ماہرین تعلیم، انسانی حقوق اور سول سوسائٹی کے نمائندگان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ بین الاقوامی شرکاء میں آذربائیجان، بحرین، چین، ہانگ کانگ، ایران، انڈونیشیا، جاپان، ترکی، ازبکستان اور دیگر مما لک سے 47 رکنی ایشین امبڈ سمین ایسوسی ایشن کے رکن ادارے بھی شامل تھے۔








