نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی نے چار سالہ ڈپلومہ اِن ہومیوپیتھک میڈیسن اینڈ سرجری کے سالانہ امتحانات کے نتائج جاری کردیئے

اسلام آباد۔7دسمبر (اے پی پی):نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی (این سی ایچ ) نے چار سالہ ڈپلومہ اِن ہومیوپیتھک میڈیسن اینڈ سرجری (ڈی ایچ ایم ایس) کے سالانہ امتحانات کے نتائج جاری کر دیئے ہیں ۔ کونسل کے مطابق حالیہ ڈی ایچ ایم ایس سال آخر کے امتحان میں 12321 طلبہ شریک ہوئے جن میں سے 75 فیصد طلبہ کامیاب قرار پائے۔مجید میڈیکل کالج کی مہلا حاجی ہادی نے پہلی پوزیشن …

اسلام آباد۔7دسمبر (اے پی پی):نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی (این سی ایچ ) نے چار سالہ ڈپلومہ اِن ہومیوپیتھک میڈیسن اینڈ سرجری (ڈی ایچ ایم ایس) کے سالانہ امتحانات کے نتائج جاری کر دیئے ہیں ۔ کونسل کے مطابق حالیہ ڈی ایچ ایم ایس سال آخر کے امتحان میں 12321 طلبہ شریک ہوئے جن میں سے 75 فیصد طلبہ کامیاب قرار پائے۔مجید میڈیکل کالج کی مہلا حاجی ہادی نے پہلی پوزیشن حاصل کی، پائیتھک میڈیکل کالج مانسہرہ کے ہزارہ ولیداللہ قریشی نے دوسری جبکہ ایمان ہندم علی نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے این سی ایچ کے چیئرمین آغا احمد نے بتایا کہ کونسل نے دہائیوں میں ہونے والی سب سے بڑی اصلاحاتی مہم مکمل کی ہے، 1986 کے امتحانی قوانین میں ترامیم کے ذریعے شفافیت کے سخت ضوابط اور مانیٹرنگ کے جدید طریقے متعارف کرائے گئے ہیں۔

ڈیجیٹل نگرانی، واٹس ایپ سسٹم کے ذریعے ویڈیو مانیٹرنگ اور بہتر نگرانی ، ملک بھر میں چار مرکزی مانیٹرنگ مراکز کا قیام،یہ سب اقدامات پورے امتحانی نظام کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، ان اصلاحات کا مقصد پاکستان کی ہومیوپیتھک تعلیم کو عالمی معیار کے ہم پلہ لانا ہے۔کونسل نے اداروں کو انٹرنیٹ سے مربوط تعلیمی سرگرمیوں میں توسیع، جدید ٹیکنالوجی اپنانے اور کلاس رومز و لیبارٹریوں کے ڈیجیٹل معیار کو بہتر بنانے کی بھی حوصلہ افزائی کی ہے ، جو ادارے پہلے ہی یہ اہداف پورے کر چکے ہیں انہیں باضابطہ طور پر سراہا گیا ہے۔تعلیمی اصلاحات کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ہومیوپیتھک صنعت بھی عالمی منڈیوں میں تیزی سے وسعت اختیار کر رہی ہے۔وزارتِ نیشنل ہیلتھ سروسز کے سرکاری پانچ سالہ اعداد و شمار (2020–21 تا 2024–25) کے مطابق پاکستان نے 26 ممالک کو 1,696.27 میٹرک ٹن ہومیوپیتھک ادویات برآمد کیں جن سے 5.23 ملین امریکی ڈالر کی آمدن حاصل ہوئی۔

اہم درآمد کنندگان میں سوڈان (274.96 میٹرک ٹن)، بنگلہ دیش (158.87 میٹرک ٹن) اور افغانستان (157.96 میٹرک ٹن) شامل ہیں۔2024–25 میں برآمدات 777.95 میٹرک ٹن تک پہنچ گئیں جو پانچ سال کی بلند ترین سطح ہے۔ اس کے باوجود پاکستان ابھی بھی کچھ اعلیٰ مالیت کی ہومیوپیتھک مصنوعات درآمد کرتا ہے۔ گزشتہ پانچ سال میں ملک نے جرمنی، فرانس، سوئٹزرلینڈ، سعودی عرب، اسپین اور دیگر یورپی ممالک سے 7,611.40 میٹرک ٹن ادویات 21.28 ملین امریکی ڈالر کی مالیت سے درآمد کیں جو بڑھتی ہوئی مقامی طلب کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماہرصحت محمد مہر نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو میں کہا کہ دنیا بھر میں ہومیوپیتھک مصنوعات کی مقبولیت میں اضافے کی بڑی وجہ قدرتی علاج کا عالمی رجحان ہے۔

ان کے مطابق ہومیوپیتھی جسمانی، ذہنی اور جذباتی پہلوؤں کو مدِنظر رکھنے والا ایک جامع اور غیر مداخلت کار طریقہ علاج ہے جو خاص طور پر الرجی، ہاضمے کی خرابی اور ذہنی دباؤ جیسی دائمی بیماریوں میں مقبول ہو رہا ہے۔ محمد مہر نے کہا کہ قدرتی صحت کی عالمی مقبولیت پاکستانی صنعت کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔ برآمدات میں اضافہ ملکی معیشت کو زرمبادلہ، روزگار اور صنعتی ترقی کے ذریعے مضبوط کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ معیاری مصنوعات اور جدید فارمولیشنز پاکستان کی عالمی شناخت کو بڑھاتی ہیں، جو بین الاقوامی تعاون، سرمایہ کاری اور تحقیق کے نئے راستے کھولتی ہیں۔

برآمدات میں اضافہ، تعلیمی داخلوں میں تیزی، جدید ضوابط، اور محفوظ و قدرتی علاج کی عالمی منڈی، یہ سب عوامل پاکستان کی ہومیوپیتھک صنعت کو تبدیلی کے ایک نئے دور میں داخل کر رہے ہیں۔این سی ایچ کے چیئرمین نے کامیاب طلبہ کو مبارک باد دی۔ انہوں نے کہا کہ تازہ ترین نتائج نہ صرف طلبہ کی انفرادی کامیابیوں کی علامت ہیں بلکہ اس پورے شعبے کی اجتماعی پیش رفت کا ثبوت بھی ہیں جو ملک کے اندر اہمیت اور بیرون ملک پہچان حاصل کر رہا ہے۔