نیشنل گیمز باڈی بلڈنگ مقابلوں میں ملک میں 22 چھوٹی بڑی قومی اور بین الاقوامی باڈی بلڈنگ تنظیموں، فیڈریشنز اور ایسوسی ایشنز میں سے 21 کو حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی، سہیل انور

اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):پاکستان باڈی بلڈنگ فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری سہیل انور نے کہا ہے کہ حال ہی میں منعقد ہونے والے نیشنل گیمز باڈی بلڈنگ مقابلوں میں ملک میں کام کرنے والی 22 چھوٹی بڑی قومی اور بین الاقوامی باڈی بلڈنگ تنظیموں، فیڈریشنز اور ایسوسی ایشنز میں سے 21 کو حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی، نیشنل گیمز میں لڑائی اور ہنگامہ آرائی کے واقعات بھی سامنے …

اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):پاکستان باڈی بلڈنگ فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری سہیل انور نے کہا ہے کہ حال ہی میں منعقد ہونے والے نیشنل گیمز باڈی بلڈنگ مقابلوں میں ملک میں کام کرنے والی 22 چھوٹی بڑی قومی اور بین الاقوامی باڈی بلڈنگ تنظیموں، فیڈریشنز اور ایسوسی ایشنز میں سے 21 کو حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی، نیشنل گیمز میں لڑائی اور ہنگامہ آرائی کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ اپنے ایک بیان میں سہیل انور نے کہا کہ جن کو نیشنل گیمز 2025 میں حصہ نہیں لینے دیا گیا ،ان ہماری باڈی بلڈنگ فیڈریشن بھی شامل تھی جو پاکستان سپورٹس بورڈ سے باقاعدہ رجسٹرڈ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس سال میرٹ کی بنیاد پر 125 اتھلیٹس کے درمیان مقابلے ہوئے جن میں سے پی ایس بی اور پاکستان باڈی بلڈنگ فیڈریشن کی جانب سے میرٹ پر منتخب کئے گئے چھ اتھلیٹس نے حصہ لیا۔ ان اتھلیٹس نے نہ صرف پانچ گولڈ میڈل حاصل کئے تھے بلکہ پچھلے ماہ ہونے والی ورلڈ چیمپئن شپ میں بھی دو سلور اور ایک برونز میڈل جیتا تھا مگر انہیں بھی ان موجودہ مقابلوں میں کھیلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔جنرل سیکرٹری نے زور دیا کہ ان موجودہ مقابلوں کو کسی بھی صورت میں پاکستان سپورٹس بورڈ کے ریکارڈ میں شمار نہ کیا جائے ۔

انہوں نے وضاحت کی کہ چونکہ باڈی بلڈنگ اولمپک گیم نہیں ہے لہٰذا اولمپک کے زیر اہتمام ہونے والے ایسے تمام قومی یا بین الاقوامی باڈی بلڈنگ مقابلوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی جنہیں متعلقہ ملک کا سپورٹس بورڈ یا باڈی بلڈنگ فیڈریشن تسلیم نہ کرے۔سہیل انور نے الزام لگایا کہ آج کا یہ مقابلہ ایک ’’نام نہاد‘‘ فیڈریشن نے کرایا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ سیکرٹری سپورٹس کو کئی بار آگاہ کرنے کے باوجود اس ’’نام نہاد اولمپک باڈی بلڈنگ فیڈریشن‘‘نے کسی کو کھیلنے کی اجازت نہیں دی۔