چائے کی مقامی پیداوار زرمبادلہ بچانے اور برآمدات بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی، وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کا پاکستان میں چائے کی کمرشلائزیشن کی سٹریٹجی کی افتتاحی تقریب خطاب

اسلام آباد۔11دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ چائے کی مقامی پیداوار زرمبادلہ بچانے اور برآمدات بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پاکستان میں چائے کی کمرشلائزیشن کی سٹریٹجی کی افتتاحی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں ایف اے او، صوبائی حکومتوں کے نمائندگان، ماہرین …

اسلام آباد۔11دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ چائے کی مقامی پیداوار زرمبادلہ بچانے اور برآمدات بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پاکستان میں چائے کی کمرشلائزیشن کی سٹریٹجی کی افتتاحی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تقریب میں ایف اے او، صوبائی حکومتوں کے نمائندگان، ماہرین زراعت اور متعلقہ سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ چائے کی مقامی پیداوار زرمبادلہ بچانے اور برآمدات بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی،پاکستان چائے کی درآمد پر 650 ملین ڈالر خطیر زرمبادلہ خرچ کر رہا ہے ، پاکستان میں چھ لاکھ ہیکٹر سے زائد زمین چائے کی کاشت کے لیے موزوں ہے اور بڑے فارمز اور زرعی کلسٹرز کے قیام سے چائے کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پیداوار صرف آغاز ہے، مکمل ویلیو چین کو فعال بنا کر پاکستان اربوں ڈالر کما سکتا ہے۔احسن اقبال نے بتایا کہ اڑان پاکستان لائحہ عمل کے تحت 26 زرعی کلسٹرز کی نشاندہی کی گئی ہے جو زرعی مصنوعات کی ویلیو ایڈیڈ پروسیسنگ، نئی برآمدی مواقع اور جدید زرعی ماڈلز کی بنیاد رکھیں گے، حکومت خام پیداوار سے ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی جانب منتقلی کو ملکی ترقی کا بنیادی ستون سمجھتی ہے۔

ان کے مطابق چائے کی پروسیسنگ، پیکجنگ اور برانڈنگ کے موثر اقدامات کے ذریعے پاکستانی چائے عالمی مارکیٹ میں نمایاں مقام حاصل کرے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش برآمدات بڑھانے اور درآمدات کم کرنے پر مرکوز ہے تاکہ ملک کو زرمبادلہ کے بحران سے بچایا جا سکے، جدید تکنیک اور تربیت یافتہ ماہرین زرعی شعبے میں حقیقی تبدیلی لائیں گے، اس مقصد کے لیے حکومت ایک ہزار ایگریکلچر سائنسدانوں اور محققین کو چین میں جدید تربیت کے لیے بھیج چکی ہے جو جدید زرعی ٹیکنالوجیز کے ذریعے ملک میں زرعی انقلاب لانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

وزیر منصوبہ بندی نے مختلف زرعی ویلیو چینز پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ خام گلاب کی پتیوں سے مکمل ویلیو چین کے ذریعے اربوں روپے کی پیداوار ممکن ہے، پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا کھجور پیدا کرنے والا ملک ہے اور آم و کھجور سے عالمی معیار کی مصنوعات جیسے آم پائوڈر اور ڈیٹ پائوڈر تیار کر کے برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان کے زیتون کے تیل کا معیار سپین کے مشہور زیتون کے تیل سے بہتر اور عالمی معیار کے مطابق ہے جو پاکستان کے لیے ایک نئی برآمدی راہداری ثابت ہو سکتا ہے۔

احسن اقبال نے زور دیا کہ چائے سمیت تمام زرعی ویلیو چینز میں سرمایہ کاری پاکستان کے لیے پائیدار ترقی، غذائی تحفظ اور برآمدی استحکام کا نیا دور ثابت ہو گی۔وفاقی وزیر نےایف اے او کے اقدام کی تعریف اور کہا کہ چائے کی مقامی پیداوار کے لیے پاکستان کی معاونت قابل تحسین ہے، چین کے ماہرین کی شراکت نے اس منصوبے کو مضبوط بنیاد دی۔