کوہاٹ میں عوام نے پی ٹی آئی کو مسترد کر دیا، خیبرپختونخوا میں نوجوان احتجاج پر مجبور، وفاقی وزیر امیر مقام

اسلام آباد۔14دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اور صدر مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ آج کوہاٹ میں ایک بار پھر عوام نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مسترد کر دیا ہے ،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکے دعوے اور حقیقت میں واضح تضاد ہے،ریاست کو بلیک میل کرنے کی سیاست اب نہیں چلے گی،خیبرپختونخوا میں بے روزگاری عروج پر، نوجوان احتجاج پر مجبور ہیں۔اتوار کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا …

اسلام آباد۔14دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اور صدر مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ آج کوہاٹ میں ایک بار پھر عوام نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مسترد کر دیا ہے ،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکے دعوے اور حقیقت میں واضح تضاد ہے،ریاست کو بلیک میل کرنے کی سیاست اب نہیں چلے گی،خیبرپختونخوا میں بے روزگاری عروج پر، نوجوان احتجاج پر مجبور ہیں۔اتوار کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے کوہاٹ جلسے سے خطاب پر ردِعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی تقریر سن کر یوں محسوس ہوا جیسے کوئی شخص خواب کی دنیا میں کھڑے ہو کر حقائق سے کٹا ہوا خطاب کر رہا ہو،آج کوہاٹ میں ایک بار پھر پی ٹی آئی کو مسترد کر دیا گیا، عوام کو اب احساس ہوا کہ یہ لوگ صرف دعوے کرتے ہیں لیکن زمین پر کچھ نہیں کرتے۔

انجینئرامیر مقام نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے دعوے اور حقیقت میں واضح تضاد ہے، تقریر ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش ہے، نوجوانوں کو ایک بار پھر لاشوں اور کفنوں کی سیاست کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کو بلیک میل کرنے کی سیاست اب نہیں چلے گی،مریم نواز آئینی اور منتخب وزیراعلیٰ ہیں، ذاتی حملے ناکامی کا ثبوت ہیں،پنجاب پولیس اور ہیلتھ سیکٹر میں اصلاحات مریم نواز کی اولین ترجیح ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اپنے صوبے کے ہسپتالوں اور صحت بحران پر بات سے گریزاں ہیں،آئی ایم ایف کو خط لکھ کر ملک کو ڈیفالٹ کے قریب کس نے پہنچایا؟ انجینئر امیر مقام نے کہا کہ 2018 سے 2022 تک تاریخی قرضے اور معاشی تباہی پی ٹی آئی کی نالائقی کا نتیجہ ہے،زیرو کرپشن کے دعوؤں کے باوجود بی آر ٹی اور صحت کارڈ اسکینڈلز سامنے آئے،بلین ٹری، گندم اور دیگر اسکینڈلز نیب و عدالتی رپورٹس میں موجود ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں منصوبوں کے اعلانات بہت لیکن تکمیل نہ ہونے کے برابر ہے،پشاور، سوات اور قبائلی اضلاع کے ہسپتالوں کی حالت زار ترجیحات ظاہر کرتی ہے،خیبرپختونخوا میں بے روزگاری عروج پر، نوجوان احتجاج پر مجبور ہیں،سب کچھ شفاف ہے تو نوجوان دربدر کیوں ہیں؟انجینئر امیر مقام نے کہا کہ ’’آزادی یا موت‘‘ جیسے نعرے آئین اور قانون کے منافی ہیں،سیاست آئین اور پارلیمان سے چلتی ہے، تشدد کے نعروں سے نہیں،اداروں پر حملے اپنی ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی کوشش ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ میڈیا کو گالیاں دینا اور صحافیوں کو غدار کہنا آمریت کی علامت ہے،آزاد میڈیا جمہوریت کی بنیاد ہے، اسے دبایا نہیں جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی تقریر کارکردگی نہیں بلکہ خوف اور نفرت کا مجموعہ ہے،عوام نعروں اور دھمکیوں سے آگے بڑھ چکے ہیں۔انجینئرامیر مقام نے کہا کہ پاکستان کو استحکام، روزگار اور قانون کی حکمرانی چاہیے،ملک کو استحکام صرف مسلم لیگ (ن) ہی دے سکتی ہے۔