اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):سربراہ تحریکِ عشقِ مصطفیٰ حضرت پیر سید عنایت علی شاہ نے کہا ہے کہ موجودہ دور کے مسائل کا حل اولیاء اللہ کی تعلیمات پر عمل درآمد میں پوشیدہ ہے ۔ انہوں نےحضرت خواجہ عبد القدوس گنگوہیؒ کے عرسِ مبارک کے سلسلے میں ختمِ خواجگان شریف کی روحانی محفل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اولیاء اللہ کی محافل دراصل دلوں کی اصلاح، اللہ سے تعلق …
موجودہ دور کے مسائل کا حل اولیاء اللہ کی تعلیمات پر عمل درآمد میں پوشیدہ ہے ،پیر سید عنایت علی شاہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):سربراہ تحریکِ عشقِ مصطفیٰ حضرت پیر سید عنایت علی شاہ نے کہا ہے کہ موجودہ دور کے مسائل کا حل اولیاء اللہ کی تعلیمات پر عمل درآمد میں پوشیدہ ہے ۔ انہوں نےحضرت خواجہ عبد القدوس گنگوہیؒ کے عرسِ مبارک کے سلسلے میں ختمِ خواجگان شریف کی روحانی محفل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اولیاء اللہ کی محافل دراصل دلوں کی اصلاح، اللہ سے تعلق مضبوط کرنے اور معاشرے میں امن و محبت کے فروغ کا ذریعہ ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قطبِ عالم حضرت خواجہ عبد القدوس گنگوہیؒ کی تعلیمات آج بھی ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں، جن میں عشقِ الٰہی، اتباعِ سنتِ رسول ﷺ، تزکیۂ نفس اور خدمتِ خلق کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ حضرت خواجہ عبد القدوس گنگوہیؒ نے اپنی عملی زندگی سے یہ پیغام دیا کہ تصوف محض ورد و وظائف کا نام نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاق، صبر، تقویٰ اور انسانیت سے محبت کا درس ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ موجودہ دور کے مسائل کا حل اولیاء اللہ کی تعلیمات پر عمل درآمد میں پوشیدہ ہے۔محفل کے دوران ذکر و اذکار کے بعد اجتماعی دعا کی گئی، جس میں ملک و قوم کی سلامتی، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور عالمِ اسلام میں امن و استحکام کے کئے خصوصی دعا کی گئی۔ انہوں نے حضرت خواجہ عبد القدوس گنگوہیؒ کی سیرت و تعلیمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آپؒ اولیاء اللہ کی اُس درخشاں روایت کے امین تھے جس کی بنیاد عشقِ الٰہی، اتباعِ سنتِ رسول ﷺ اور خدمتِ خلق پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ حضرت خواجہ عبد القدوس گنگوہیؒ نے اپنے عمل و کردار سے یہ پیغام دیا کہ باطنی اصلاح کے بغیر ظاہری عبادات مکمل نہیں ہوتیں اور اصل تصوف نفس کی پاکیزگی اور اخلاقِ حسنہ کی ترویج کا نام ہے۔پیر سید عنایت علی شاہ نے کہا کہ ختمِ خواجگان جیسی روحانی محافل دلوں کو اللہ کی یاد سے منور کرتی ہیں اور معاشرے میں امن، اخوت اور رواداری کے فروغ کا ذریعہ بنتی ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اولیاء اللہ کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں ۔








