یوکرین امن معاہدے سے متعلق 90 فیصد معاملات طے پا گئے، امریکی دعویٰ

واشنگٹن ۔16دسمبر (اے پی پی):امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے مجوزہ 20 نکاتی امن منصوبے پر امریکا، یوکرین اور یورپی ممالک کے درمیان 90 فیصد اختلافات پر اتفاقِ رائے یا نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے۔شنہوا نے امریکی میڈیا رپورٹس کے حوالے سے بتایا کہ دو اعلیٰ امریکی حکام نے بتایا کہ یوکرین امن معاہدے سے متعلق زیادہ تر نکات پر فریقین کے درمیان …

واشنگٹن ۔16دسمبر (اے پی پی):امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے مجوزہ 20 نکاتی امن منصوبے پر امریکا، یوکرین اور یورپی ممالک کے درمیان 90 فیصد اختلافات پر اتفاقِ رائے یا نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے۔شنہوا نے امریکی میڈیا رپورٹس کے حوالے سے بتایا کہ دو اعلیٰ امریکی حکام نے بتایا کہ یوکرین امن معاہدے سے متعلق زیادہ تر نکات پر فریقین کے درمیان فاصلے کم ہو گئے ہیں۔ یہ پیش رفت برلن میں ہونے والے ان مذاکرات کے بعد سامنے آئی جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر نے یوکرینی اور یورپی حکام سے ملاقاتیں کیں۔

یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ برلن مذاکرات محض ایک ’’ابتدائی مسودہ‘‘ ہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ امن منصوبے میں شامل بعض نکات تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، جنہیں نکالنا ضروری ہوگا۔زیلنسکی کے مطابق یوکرین نے نیٹو کی رکنیت کے بجائے مضبوط سکیورٹی ضمانتیں قبول کر کے لچک کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم تاحال یہ واضح نہیں کہ امریکا کی جانب سے سکیورٹی ضمانتوں کی نوعیت کیا ہوگی اور آیا اس کے لیے امریکی سینیٹ کی منظوری درکار ہوگی یا نہیں۔ادھر علاقائی معاملات اب بھی سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

یوکرینی صدر نے واضح کیا ہے کہ یوکرین کے لیے یہ ناممکن ہے کہ وہ ایسے علاقوں، بالخصوص ڈونیٹسک کے حصوں سے دستبردار ہو جائے جن پر روس نے میدانِ جنگ میں قبضہ نہیں کیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے امکانات پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہیں، تاہم انہوں نے مذاکرات کو مشکل قرار دیا۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگرچہ پیش رفت ہو رہی ہے، مگر یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔سکیورٹی ضمانتوں کے حوالے سے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس معاملے پر یورپ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ جنگ دوبارہ شروع نہ ہو۔امریکی حکام کے مطابق امن مذاکرات کے سلسلے میں فریقین کا آئندہ اجلاس رواں ہفتے کے آخر میں امریکہ میں متوقع ہے۔