واشنگٹن ۔16دسمبر (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بی بی سی کے خلاف ایک دستاویزی پروگرام میں مبینہ طور پر ان کی تقریر میں رد و بدل کرنے پر کم از کم 10 ارب ڈالر ہرجانے کا دعویٰ دائر کر دیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ مقدمہ میامی کی وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا۔مقدمے میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے خلاف …
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بی بی سی کے خلاف 10 ارب ڈالر ہرجانے کا دعویٰ دائر کر دیا

مزید خبریں
واشنگٹن ۔16دسمبر (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بی بی سی کے خلاف ایک دستاویزی پروگرام میں مبینہ طور پر ان کی تقریر میں رد و بدل کرنے پر کم از کم 10 ارب ڈالر ہرجانے کا دعویٰ دائر کر دیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ مقدمہ میامی کی وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا۔مقدمے میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے خلاف ہتکِ عزت اور غیر منصفانہ تجارتی طریقۂ کار سے متعلق فلوریڈا کے قانون کی خلاف ورزی کے تحت دو الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں ہر الزام پر کم از کم 5 ارب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔امریکی صدر کا کہنا ہے کہ بی بی سی نے ان کی 6 جنوری 2021 کی تقریر کے حصوں کو ایڈیٹنگ کے بعد اس انداز میں پیش کیا کہ بظاہر وہ اپنے حامیوں کو امریکی کانگریس کی عمارت پر حملے کی ترغیب دے رہے تھے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
یہ دستاویزی پروگرام گزشتہ سال 2024 کے صدارتی انتخابات سے قبل بی بی سی کے مشہور پروگرام پینوراما میں نشر کیا گیا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپکی قانونی ٹیم کے ترجمان نے اے ایف پی کو جاری بیان میں کہا کہ بی بی سی نے جان بوجھ کر اور بدنیتی سے تقریر میں رد و بدل کیا تاکہ 2024 کے صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہوا جا سکے۔ بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ بی بی سی طویل عرصے سے ٹرمپ کے خلاف جانبدارانہ اور گمراہ کن رپورٹنگ کرتا رہا ہے۔
بی بی سی نے ان الزامات کی تردید کی ہے، تاہم ادارے کے چیئرمین سمیر شاہ نے ٹرمپ کے نام ایک خط میں ان سے معذرت کی ہے اور برطانوی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے اعتراف کیا کہ اس معاملے کو پہلے ہی سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے تھا۔
واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں اس تنازع نے بی بی سی میں شدید بحران کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں ادارے کے ڈائریکٹر جنرل اور سینئر نیوز ایگزیکٹو کو مستعفی ہونا پڑا۔ یہ مقدمہ ٹرمپ کی جانب سے میڈیا اداروں کے خلاف دائر کیے گئے متعدد قانونی اقدامات میں تازہ ترین ہے، جن میں سے کئی معاملات ماضی میں کروڑوں ڈالر کے تصفیوں پر ختم ہو چکے ہیں۔








