سپر انٹیلی جنس انسانیت کےلئے وجودی خطرہ بن سکتی ہے، مائیکروسافٹ کے شامی ماہر کا انتباہ

دمشق۔16دسمبر (اے پی پی):مائیکروسافٹ میں مصنوعی ذہانت کے شعبے کی قیادت کرنے والے شامی نژاد ماہر مصطفیٰ سلیمان نے خبر دار کیا ہے کہ سپر انٹیلی جنس انسانیت کےلئے وجودی خطرہ بن سکتی ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے کہا کہ سپر انٹیلی جنس پہلے ہی کئی علمی نوعیت کے کاموں میں کارکردگی دکھانا شروع کر چکی ہے اور یہ سب کچھ ایسی رفتار سے ہو رہا ہے جو …

دمشق۔16دسمبر (اے پی پی):مائیکروسافٹ میں مصنوعی ذہانت کے شعبے کی قیادت کرنے والے شامی نژاد ماہر مصطفیٰ سلیمان نے خبر دار کیا ہے کہ سپر انٹیلی جنس انسانیت کےلئے وجودی خطرہ بن سکتی ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے کہا کہ سپر انٹیلی جنس پہلے ہی کئی علمی نوعیت کے کاموں میں کارکردگی دکھانا شروع کر چکی ہے اور یہ سب کچھ ایسی رفتار سے ہو رہا ہے جو انسانی صلاحیتوں سے کہیں آگے ہے حالانکہ یہ ٹیکنالوجی تاحال آزمائشی مرحلے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت ایک ایسے تکنیکی اور اخلاقی موڑ پر کھڑی ہے جہاں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں آئندہ نسل کی مصنوعی ذہانت پر غلبے کے لئے دوڑ میں مصروف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سپر انٹیلی جنس محض ایک زیادہ ترقی یافتہ ماڈل نہیں بلکہ ایسا نظام ہے جو کسی بھی کام کو سیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اجتماعی طور پر تمام انسانوں سے بہتر انداز میں اسے انجام دے سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اصل خطرہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب کوئی نظام خود اپنے اہداف طے کرنے لگے اپنا کوڈ خود بہتر بنائے اور انسانوں سے مکمل طور پر آزاد ہو کر فیصلے کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر بات ترقی کی نہیں رہتی بلکہ یہ ایک وجودی خطرہ بن جاتا ہے جس کے لئے ایک ایسی ریڈلائن مقرر کرنا ناگزیر ہے جسے کسی صورت عبور نہ کیا جائے۔

بلومبرگ ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق مائیکروسافٹ کسی بھی بڑی نئی پیش رفت سے پہلے سپر انٹیلی جنس کے خطرات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ شامی نژاد ماہر مصطفیٰ سلیمان نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ اس مقصد کے لئے طبی شعبہ سب سے موزوں ماحول ہے۔ انہوں نے کہا کہ طب ایسا شعبہ ہے جو گہرے اثرات رکھتا ہے۔ اس کے نتائج قابل پیمائش ہوتے ہیں اور اس میں فوائد اور خطرات دونوں کو نہایت درست انداز میں جانچا جا سکتا ہے۔