کابل۔16دسمبر (اے پی پی):افغانستان میں صاف پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جس پر یورپی یونین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ افغان نشریاتی ادارے خاما پریس کے مطابق، یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں 2 کروڑ سے زائد افراد صاف پینے کے پانی سے محروم ہیں، جس سے افغان عوام غاصب طالبان رجیم سے عاجز آ چکے ہیں۔رپورٹ میں اس بات پر شدید …
افغانستان میں صاف پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا، 2 کروڑ افراد متاثر ،یورپی یونین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

مزید خبریں
کابل۔16دسمبر (اے پی پی):افغانستان میں صاف پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جس پر یورپی یونین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ افغان نشریاتی ادارے خاما پریس کے مطابق، یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں 2 کروڑ سے زائد افراد صاف پینے کے پانی سے محروم ہیں، جس سے افغان عوام غاصب طالبان رجیم سے عاجز آ چکے ہیں۔رپورٹ میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ ایک طرف افغان طالبان خطہ میں دہشتگردی پھیلانے میں مصروف ہیں، جبکہ دوسری طرف افغان عوام پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کے لیے ترس گئے ہیں۔
یورپی یونین نے انتباہ جاری کیا ہے کہ آلودہ پانی سے بیماریوں کا پھیلاؤ بڑھ گیا ہےاور یہ خطرہ شدت اختیار کر چکا ہے۔خاما پریس کے مطابق، یونیسف بھی رپورٹ کر چکا ہے کہ افغانستان میں 80 فیصد سے زائد آبادی کے لیے پینے کے آلودہ پانی پر انحصار ہے۔ اس کے نتیجے میں 2 لاکھ 12 ہزار سے زائد بچے پانی سے منتقل ہونے والی بیماریوں سے متاثر ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، ملک بھر میں پانی سے ہونے والی بیماریوں کے 9,548 کیس ریکارڈ کیے گئے ہیں۔خاما پریس نے واضح کیا ہے کہ خراب انفرا سٹرکچر اور طالبان رجیم کی سیاسی بدانتظامیوں نے افغانستان کی صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔
پانی کے بحران نے عوامی صحت، سماجی استحکام اور غذائی سلامتی کو شدید خطرے میں دھکیل دیا ہے۔عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان کی پابندیوں اور حفظان صحت کے ناقص نظام کی وجہ سے متعدد بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ طالبان کی پالیسیوں کی وجہ سے مئی 2025 تک 442 کلینک بند ہو چکے ہیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ افغان طالبان عوامی مسائل کو حل کرنے کے بجائے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی سہولت کاری میں مصروف ہیں، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر بتدریج تنہائی کا شکار ہو چکے ہیں۔








