سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی اور واجب التعمیل ہوتا ہے،کوئی ماتحت فورم 24 سال بعد اس پر نظرِ ثانی کا اختیار نہیں رکھتا، وفاقی آئینی عدالت

اسلام آباد۔19دسمبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان نے زمین اصلاحات سے متعلق ایک طویل عرصے سے زیرِ تنازع مقدمے میں واضح طور پر قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی اور واجب التعمیل ہوتا ہے،کوئی ماتحت فورم 24 سال بعد اس پر نظرِ ثانی کا اختیار نہیں رکھتا ،سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ کسی بھی ماتحت فورم یا انتظامی اتھارٹی کے ذریعے دوبارہ نہیں کھولا جا سکتااور …

اسلام آباد۔19دسمبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان نے زمین اصلاحات سے متعلق ایک طویل عرصے سے زیرِ تنازع مقدمے میں واضح طور پر قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی اور واجب التعمیل ہوتا ہے،کوئی ماتحت فورم 24 سال بعد اس پر نظرِ ثانی کا اختیار نہیں رکھتا ،سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ کسی بھی ماتحت فورم یا انتظامی اتھارٹی کے ذریعے دوبارہ نہیں کھولا جا سکتااور ایسا کرنا آئینِ پاکستان کی کھلی خلاف ورزی ہے۔وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق یہ فیصلہ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان بارِچ پر مشتمل بنچ نے سی پی ایل اے نمبر 962 تا 964/2023 میں سنایا جو لاہور ہائی کورٹ کے 24 نومبر 2022 کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھیں۔درخواست گزار ریاض حسین کے والد اور پیش رو کرام علی کو 1977 میں زرعی اصلاحات کے تحت ڈیکلیئرنٹ قرار دیا گیا تھا، جن کی ملکیت 12,691 پروڈیوس انڈیکس یونٹس (PIUs) مقرر کی گئی جبکہ 4,819 PIUs زمین اضافی قرار دے کر سرکار نے تحویل میں لے لی تھی۔اس فیصلے کے خلاف کرام علی نے اپیل، نظرِ ثانی اور بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا، تاہم 6 دسمبر 1986 کو سپریم کورٹ نے تمام درخواستیں مسترد کرتے ہوئے معاملہ حتمی طور پر طے کر دیا تھا۔عدالت کے مطابق اس کے باوجود کرام علی کے ورثا نے 24 سال بعد حقائق چھپاتے ہوئے چیئرمین فیڈرل لینڈ کمیشن کے سامنے نئی نظرِ ثانی دائر کی، جسے چیئرمین نے 7 فروری 2011 کو منظور کر لیا۔وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 189 کی صریح خلاف ورزی ہے کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے تمام ماتحت عدالتوں اور اداروں پر لازم ہوتے ہیں۔عدالت نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی اور واجب التعمیل ہوتا ہے،کوئی ماتحت فورم 24 سال بعد اس پر نظرِ ثانی کا اختیار نہیں رکھتا،چیئرمین فیڈرل لینڈ کمیشن نے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا،ایسا حکم void ab initio یعنی ابتدا ہی سے کالعدم تصور ہوگا،عدالت نے res judicata کے اصول کو دہراتے ہوئے کہا کہ کسی بھی معاملے کو ایک بار حتمی طور پر نمٹا دینے کے بعد دوبارہ نہیں چھیڑا جا سکتا۔عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے سیکشن 12(2) سی پی سی کے تحت دائر درخواستیں منظور کرنے کے فیصلے کو بھی درست قرار دیا، جن میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ وکیل نے تمام فریقین کی اجازت کے بغیر رِٹ واپس لی تھی۔عدالت نے قرار دیا کہ وکالت نامہ وکیل کو ازخود سمجھوتہ کرنے کا اختیار نہیں دیتا،فریقین کی واضح اجازت کے بغیر کیا گیا سمجھوتہ قانونی حیثیت نہیں رکھتا،ہائی کورٹ نے شواہد کی روشنی میں درست فیصلہ کیا،وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار ہائی کورٹ کے فیصلے میں کسی قانونی، آئینی یا دائرہ اختیاری خامی کی نشاندہی کرنے میں ناکام رہے ہیں، لہٰذارخواستیں بے بنیاد قرار دے کر خارج کر دی گئیں اور اپیل کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔