اسلام آباد۔19دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ سالانہ آئینی رپورٹنگ کو محض ایک رسمی عمل کے بجائے نتائج پر مبنی بنانا ناگزیر ہے، آئین ریاست کی سمت کا تعین کرتا ہے تاہم آئین کے اصول پالیسی پر عملدرآمد کے لیے آج تک کوئی واضح اور مربوط روڈ میپ موجود نہیں جو ایک بڑا خلا ہے، حکومت ایک ایسا قومی …
وزارت منصوبہ بندی کے زیر اہتمام آئین کے اصول پالیسی پر قومی مشاورتی ورکشاپ، سالانہ آئینی رپورٹنگ کو محض ایک رسمی عمل کے بجائے نتائج پر مبنی بنانا ناگزیر ہے، احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔19دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ سالانہ آئینی رپورٹنگ کو محض ایک رسمی عمل کے بجائے نتائج پر مبنی بنانا ناگزیر ہے، آئین ریاست کی سمت کا تعین کرتا ہے تاہم آئین کے اصول پالیسی پر عملدرآمد کے لیے آج تک کوئی واضح اور مربوط روڈ میپ موجود نہیں جو ایک بڑا خلا ہے، حکومت ایک ایسا قومی فریم ورک متعارف کرانا چاہتی ہے جو شفاف، نتیجہ خیز اور قابل احتساب ہو جس کے تحت آئین کے اصول پالیسی کے اہداف، ترقیاتی ترجیحات اور گورننس آئوٹ کمز کو ہم آہنگ کیا جائے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے زیر اہتمام جمعہ کو آئین پاکستان کے اصول پالیسی پر ایک قومی مشاورتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس سلسلہ میں وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے زیر اہتمام جمعہ کو آئین پاکستان کے اصول پالیسی پر ایک قومی مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس سے وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے خطاب کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سالانہ آئینی رپورٹنگ کو محض ایک رسمی عمل کے بجائے نتائج پر مبنی بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ رپورٹ کا معیار اس کی خوبصورتی نہیں بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ اس کے اثرات عوام کی زندگی میں کس حد تک بہتری لا رہے ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ جتنا اہم کام آئین بنانا ہے، اتنا ہی اہم آئین پر عمل داری ہے، آئین ریاست کی سمت کا تعین کرتا ہے تاہم آئین کے اصول پالیسی پر عملدرآمد کے لیے آج تک کوئی واضح اور مربوط روڈ میپ موجود نہیں جو ایک بڑا خلا ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ گزشتہ 52 برسوں میں اصول پالیسی پر عملدرآمد کے لیے موثر نظام وضع نہیں ہو سکا، اس لیے اب ایک ٹھوس، قابل عمل اور قابل احتساب لائحہ عمل تشکیل دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، ہر وزارت روایتی رپورٹنگ تو کرتی ہے، مگر ٹھوس نتائج ناپنے اور گورننس آئوٹ کمز جانچنے کا جامع نظام موجود نہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ایک ایسا قومی فریم ورک متعارف کرانا چاہتی ہے جو شفاف، نتیجہ خیز اور قابل احتساب ہو جس کے تحت آئین کے اصول پالیسی کے اہداف، ترقیاتی ترجیحات اور گورننس آئوٹ کمز کو ہم آہنگ کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ سٹیک ہولڈرز کی رہنمائی میں ہر اصول پالیسی کو عملی اقدامات اور واضح اہداف میں ڈھالا جائے گا تاکہ آئینی تقاضے عوامی فلاح اور جامع ترقی میں حقیقی طور پر ڈھل سکیں۔ گورننس کا اصل مقصد جامع ترقی اور تمام شہریوں کے لیے برابر مواقع کی فراہمی ہے۔








