اسلام آباد۔19دسمبر (اے پی پی):پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی) نے اپنے اہم گریجویٹ انجینئر ٹرینی (جی ای ٹی ) پلیسمنٹ پروگرام کے تحت ڈیجیٹل قرعہ اندازی مکمل کر لی جس کے نتیجے میں پہلے مرحلے میں 600 انجینئرز کو مختلف صنعتی اداروں میں چھ ماہ کی تربیت کے لئے منتخب کیا گیا۔ڈیجیٹل قرعہ اندازی کی تقریب پی ای سی کے علاقائی دفتر لاہور میں منعقد ہوئی جہاں چیئرمین پی …
پاکستان انجینئرنگ کونسل نے 6 ماہ کے بامعاوضہ گریجویٹ انجینئر ٹرینی پروگرام کے پہلے بیچ کا آغاز کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔19دسمبر (اے پی پی):پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی) نے اپنے اہم گریجویٹ انجینئر ٹرینی (جی ای ٹی ) پلیسمنٹ پروگرام کے تحت ڈیجیٹل قرعہ اندازی مکمل کر لی جس کے نتیجے میں پہلے مرحلے میں 600 انجینئرز کو مختلف صنعتی اداروں میں چھ ماہ کی تربیت کے لئے منتخب کیا گیا۔ڈیجیٹل قرعہ اندازی کی تقریب پی ای سی کے علاقائی دفتر لاہور میں منعقد ہوئی جہاں چیئرمین پی ای سی انجینئر وسیم نذیر نے بٹن دبا کر پروگرام کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر وائس چیئرمین پی ای سی پنجاب انجینئر ڈاکٹر سہیل آفتاب قریشی، پی ای سی گورننگ باڈی کے اراکین اور سینئر افسران موجود تھے جبکہ پی ای سی ہیڈکوارٹرز اور ملک بھر کے علاقائی و برانچ دفاتر کے نمائندے آن لائن شریک ہوئے۔
پی ای سی کے مطابق جی ای ٹی پروگرام کے پہلے بیچ کے لئے تقریباً 3 ہزار انجینئرز نے آن لائن درخواستیں جمع کرائیں جن میں سے جانچ پڑتال کے بعد 1,587 امیدوار شارٹ لسٹ ہوئے۔ ان میں سے 600 انجینئرز کا انتخاب شفاف ڈیجیٹل قرعہ اندازی کے ذریعے کیا گیا۔پی ای سی حکام کا کہنا ہے کہ اگر کوئی منتخب امیدوار جوائن نہیں کرتا تو ویٹنگ لسٹ میں شامل امیدواروں کو موقع دیا جائے گا۔ شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لئے ڈیجیٹل قرعہ اندازی کا طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے۔بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ جی ای ٹی پروگرام پر کام کئی ماہ قبل شروع کیا گیا تھا جس کے تحت علیحدہ آن لائن پورٹلز قائم کئے گئے۔ انہی پورٹلز کے ذریعے درخواستیں وصول کی گئیں اور ملک بھر کے سرکاری و نجی اداروں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے۔
یہ ادارے نئے فارغ التحصیل انجینئرز کو منظم اور عملی تربیت فراہم کریں گے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی ای سی انجینئر وسیم نذیر نے جی ای ٹی پروگرام کو ایک فلیگ شپ اقدام قرار دیا جس کا مقصد نئے انجینئرز کو عملی تجربہ فراہم کر کے علم اور صنعتی تقاضوں کے درمیان خلا ء کو کم کرنا ہے۔چیئرمین پی ای سی نے بتایا کہ انہوں نے چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے دورے کئے اور چیف سیکرٹریز سے ملاقاتیں کر کے سرکاری اداروں کی شمولیت کو یقینی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اہم سرکاری اداروں کی شمولیت پی ای سی پر اعتماد کا مظہر ہے۔
چیئرمین پی ای سی نے اعلان کیا کہ مارچ 2026 میں پروگرام کے دوسرے مرحلے کے تحت 1,400 انجینئرز کو تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، جبکہ اس اقدام کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی ہے۔گریجویٹ انجینئر ٹرینی پلیسمنٹ پروگرام مکمل طور پر پی ای سی کے مالی تعاون سے چلایا جانے والا چھ ماہ پر مشتمل ’’ہاؤس جاب‘‘ طرز کا تربیتی پروگرام ہے جس میں پانچ ماہ فیلڈ ٹریننگ اور ایک ماہ اسکل ڈویلپمنٹ شامل ہے۔
ٹرینیز کو ماہانہ 50 ہزار روپے وظیفہ دیا جائے گا جبکہ شراکت دار اداروں پر کوئی مالی بوجھ نہیں ہوگا۔ پروگرام کی کامیاب تکمیل پر انجینئرز کو پی ای سی اور متعلقہ ادارے کی جانب سے مشترکہ سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا جس پر تصدیق کے لئے کیو آر کوڈ بھی موجود ہوگا۔








