منیلا۔20دسمبر (اے پی پی):فلپائن کے پولیس حکام نے انکشاف کیا ہے کہ بونڈائی بیچ فائرنگ میں ملوث افراد میں سے ایک نےمبینہ طور پر وہاں اسلحے کی ایک دکان کا بھی دورہ کیا تھا۔ اردو نیوز کے مطابق فلپائنی پولیس اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ فائرنگ سے قبل کے ہفتوں میں دونوں حملہ آوروں کی سرگرمیاں کیا تھیں۔ساجد اکرم اور ان کے بیٹے نوید اکرم نے ڈاواؤ …
بونڈائی بیچ فائرنگ میں ملوث افراد میں سے ایک نےمبینہ طور پر فلپائن میں اسلحے کی دکان کا دورہ کیا تھا،فلپائنی پولیس کا انکشاف

مزید خبریں
منیلا۔20دسمبر (اے پی پی):فلپائن کے پولیس حکام نے انکشاف کیا ہے کہ بونڈائی بیچ فائرنگ میں ملوث افراد میں سے ایک نےمبینہ طور پر وہاں اسلحے کی ایک دکان کا بھی دورہ کیا تھا۔ اردو نیوز کے مطابق فلپائنی پولیس اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ فائرنگ سے قبل کے ہفتوں میں دونوں حملہ آوروں کی سرگرمیاں کیا تھیں۔ساجد اکرم اور ان کے بیٹے نوید اکرم نے ڈاواؤ سٹی کے ایک ہوٹل میں چار ہفتے قیام کیا اور 28 نومبر کو آسٹریلیا واپس روانہ ہوئے۔
یہ 14 دسمبر کو سڈنی میں حنوکہ کی تقریب کے دوران مبینہ طور پر 15 افراد کو ہلاک اور درجنوں کو زخمی کرنے سے صرف دو ہفتے قبل کا وقت تھا۔50 سالہ ساجد اکرم کو واقعے کے مقام پر پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جبکہ 24 سالہ نوید اکرم پر آسٹریلیا میں 59 الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں قتل کے 15 الزامات بھی شامل ہیں۔فلپائنی پولیس کے علاقائی ڈائریکٹر لیون وکٹر روزیٹے نے گارڈین کو بتایا کہ ہم اس وقت ان دونوں مشتبہ افراد کی فلپائن میں قیام کے دوران نقل و حرکت کی تفتیش کر رہے ہیں۔
تحقیقات کا مرکز جی وی ہوٹل کے باہر ان کی سرگرمیاں ہیں جہاں دونوں اپنے پورے قیام کے دوران مقیم رہے۔ لیون وکٹر روزیٹے کے مطابق پولیس ان موبائل نمبروں کی بھی جانچ کر رہی ہے جو انہوں نے قیام کے دوران استعمال کیے، نیز ان کے رابطوں کا بھی سراغ لگایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ان کی سرگرمیوں اور ممکنہ معاون نیٹ ورکس کا تعین کر رہے ہیں، ہم تفتیش اور انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ والد نے اسلحے میں دلچسپی ظاہر کی اور وہ شہر میں واقع ایک اسلحے کی دکان میں گئے ۔اس حوالے سے فلپائن کے قومی سلامتی کے مشیر ایڈوارڈو آنیو نے کہا کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کوئی پہلو نظرانداز نہ ہو۔انہوں نےکہا کہ ہم آسٹریلوی حکومت کی مدد کرنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں کسی ممکنہ دہشت گرد خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔








