یورپی یونین (ای یو ) اور پاکستان کے مابین مشترکہ کمیشن کا 15واں اجلاس ، یورپی یونین اور پاکستان میں سیاسی و معاشی صورتحال کا جائزہ

برسلز ۔20دسمبر (اے پی پی):یورپی یونین (ای یو ) اور پاکستان کے مابین مشترکہ کمیشن کا 15واں اجلاس 17 دسمبر 2025 کو برسلز میں منعقد ہوا جس میں یورپی یونین اور پاکستان میں سیاسی و معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور جمہوریت، طرزِ حکمرانی، انسانی حقوق، تجارت و سرمایہ کاری، ترقی، ہجرت، ماحولیاتی تبدیلی و توانائی، سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون اور یورپی یونین پاکستان اسٹریٹجک …

برسلز ۔20دسمبر (اے پی پی):یورپی یونین (ای یو ) اور پاکستان کے مابین مشترکہ کمیشن کا 15واں اجلاس 17 دسمبر 2025 کو برسلز میں منعقد ہوا جس میں یورپی یونین اور پاکستان میں سیاسی و معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور جمہوریت، طرزِ حکمرانی، انسانی حقوق، تجارت و سرمایہ کاری، ترقی، ہجرت، ماحولیاتی تبدیلی و توانائی، سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون اور یورپی یونین پاکستان اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان (SEP) پر عملدرآمد پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

فریقین نے خطے کی صورتحال پر بھی تبادلہ کیا اور علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ مفادات پر شراکت داری کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ ہفتہ کو دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق جمہوریت، طرزِ حکمرانی، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق سے متعلق ذیلی گروپ کا اجلاس یکم دسمبر 2025 کو منعقد ہوا، جس میں پاکستانی وفد کی نمائندگی وزارتِ خارجہ اور یورپی یونین کی جانب سے یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس (EEAS) نے کی۔ فریقین نے دوطرفہ تعلقات اور بین الاقوامی فورمز میں انسانی حقوق کے حوالے سے قریبی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

یورپی یونین نے پاکستان کو اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا رکن منتخب ہونے پر مبارکباد دی، جس کے ارکان سے انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے اعلیٰ ترین معیارات کی پاسداری کی توقع کی جاتی ہے۔پاکستان نے قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق، قومی ایکشن پلان برائے کاروبار و انسانی حقوق اور ملک بھر میں انسانی حقوق کے فروغ و تحفظ کے لیے ذمہ دار قومی اداروں کی کارکردگی میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ یورپی یونین نے خواتین و بچوں، اقلیتوں، محنت کشوں اور تارکینِ وطن کے حقوق سمیت تمام انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں بالخصوص آزادیٔ اظہار و رائے اور غلط معلومات کے بڑھتے ہوئے مسئلے کے تناظر میں پاکستان کی کوششوں کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔

فریقین نے جی ایس پی پلس (GSP+) فریم ورک کے تحت درکار 27 بین الاقوامی کنونشنز پر عملدرآمد میں پاکستان کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔ یورپی یونین نے سزائے موت کے نفاذ کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے میں پاکستان کی پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور اس ضمن میں مزید اقدامات کی حوصلہ افزائی کی۔ تشدد کے خلاف ابتدائی اقدامات اور کمیشن برائے اقلیتوں کے قیام کو بھی سراہا گیا۔ آئندہ جی ایس پی پلس مانیٹرنگ رپورٹ کے پیشِ نظر قلیل المدت اقدامات اور وسط و طویل المدت اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس موقع پر آزادی اظہار و میڈیا، جبری گمشدگیاں، عدلیہ کی آزادی، مذہبی آزادی یا عقیدے کا حق، اسلام مخالف نفرت، اقلیتوں اور کمزور طبقات کے حقوق پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

فریقین نے مناسب حفاظتی اقدامات اور مسلسل ڈائیلاگ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ محنت کشوں کے حقوق کے حوالے سے لیبر انسپیکشن کے نظام کو مضبوط بنانے، کم از کم اجرت کے نفاذ اور لیبر مارکیٹ میں خواتین کے مواقع بڑھانے پر گفتگو ہوئی جبکہ ٹریڈ یونینز میں کم کارکنوں کی شمولیت پر یورپی یونین کے تحفظات کے جواب میں منظم اقدامات کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔یورپی یونین پاکستان کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے جبکہ پاکستان کی جی ایس پی پلس سے سب سے زیادہ مستفید ہونے والا ملک ہے، جس سے دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ،تجارت سے متعلق ذیلی گروپ کا اجلاس 15 دسمبر 2025 کو منعقد ہوا، جس میں پاکستانی وفد کی نمائندگی وزارتِ تجارت اور یورپی یونین کی جانب سے یورپی کمیشن کے ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے تجارت نے کی۔ دونوں فریقین نے مضبوط کثیرالجہتی تجارتی نظام کی اہمیت کو تسلیم کیا۔

دوطرفہ تجارت، مارکیٹ تک رسائی کے مسائل اور جی ایس پی پلس پر عملدرآمد سمیت متعدد امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ 24 نومبر سے 3 دسمبر 2025 تک ہونے والے جی ایس پی پلس مانیٹرنگ مشن، آئندہ رپورٹ اور نئے جی ایس پی ریگولیشن کے تحت دوبارہ درخواست پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔فریقین نے کاروباری ماحول بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور 28–29 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطحی ای یو–پاکستان بزنس فورم میں اس پیش رفت کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ۔ ترقیاتی تعاون سے متعلق ذیلی گروپ کا اجلاس 16 دسمبر 2025 کو ہوا، جس میں پاکستان کی نمائندگی وزارتِ اقتصادی امور کے جوائنٹ سیکریٹری اور یورپی یونین کی نمائندگی یورپی کمیشن کے ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے انٹرنیشنل پارٹنرشپس نے کی۔ فریقین نے ترجیحی شعبوں جامع ترقی، انسانی سرمایہ/ٹیکنیکل و ووکیشنل تعلیم و تربیت (TVET) اور طرزِ حکمرانی بشمول قانون کی حکمرانی و انسانی حقوق کی اہمیت پر اتفاق کیا، جو حکومتِ پاکستان کے قومی ترقیاتی ایجنڈے سے ہم آہنگ ہیں۔

پاکستان نے ماحولیاتی تبدیلی کے لیے یورپی یونین کی مسلسل معاونت کو سراہا۔یورپی یونین نے 2025–2027 کے منصوبوں کا خاکہ اور گلوبل گیٹ وے حکمتِ عملی پر بریفنگ دی۔ مشترکہ کمیشن کے موقع پر یورپی سرمایہ کاری بینک ( ای آئی بی ) نے 2015 کے بعد پاکستان کے آبی شعبے میں اپنی پہلی کریڈٹ فنانسنگ پر دستخط کیے ۔مشترکہ اجلاس میں 2019 کے ای یو پاکستان اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان (SEP) سے وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے گزشتہ چھ برسوں میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ 21 نومبر 2025 کو برسلز میں ہونے والے ساتویں اسٹریٹجک ڈائیلاگ سمیت اعلیٰ سطحی روابط میں تیزی کا خیرمقدم کیا گیا، جس کی مشترکہ صدارت یورپی یونین کی ہائی ریپریزنٹیٹو/وائس پریزیڈنٹ کاجا کالاس اورپاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کی ہجرت و نقل و حرکت پر جامع مکالمے، واپسی و ری ایڈمشن، غیرقانونی ہجرت اور انسانی سمگلنگ کی روک تھام، ٹیلنٹ پارٹنرشپ روڈ میپ اور افغان مہاجرین سے متعلق امور پر بھی گفتگو ہوئی۔

پاکستان کی دہائیوں سے لاکھوں افغان شہریوں کی میزبانی کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ واپسی محفوظ، باوقار اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ہونی چاہیے۔غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے، دو ریاستی حل، یوکرین میں جاری جنگ، مسئلہ جموں و کشمیر، سندھ طاس معاہدہ، افغانستان کی صورتحال، دہشت گردی اور منشیات کے خلاف تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ تمام تنازعات کے پرامن حل اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر زور دیا گیا۔ مشترکہ کمیشن کی صدارت پاکستان کی وزارتِ اقتصادی امور کے سیکرٹری محمد ہمیر کریم اور یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس کی ایشیا و بحرالکاہل کی قائم مقام منیجنگ ڈائریکٹر پاؤلا پامپالونی نے کی۔ آئندہ اجلاس 2026 میں اسلام آباد میں منعقد کرنے پر اتفاق کیا گیا۔