بھارتی ریاست بہار میں مسلم خاتون کا حجاب اتارنے کا واقعہ بھارت میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا اور عدم برداشت کا مظہر ہے، عطاء اللہ تارڑ

اسلام آباد۔20دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے بھارتی ریاست بہار میں مسلم خاتون کا حجاب اتارنے کے واقعہ پر بھارت پر کڑی تنقید کا کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ بھارت میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا اور عدم برداشت کا مظہر ہے۔ ہفتہ کو ”وی نیوز انگلش“ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ نہایت افسوسناک واقعہ …

اسلام آباد۔20دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے بھارتی ریاست بہار میں مسلم خاتون کا حجاب اتارنے کے واقعہ پر بھارت پر کڑی تنقید کا کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ بھارت میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا اور عدم برداشت کا مظہر ہے۔ ہفتہ کو ”وی نیوز انگلش“ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ نہایت افسوسناک واقعہ منظر عام پر آیا جس میں ایک مسلم میڈیکل گریجویٹ طالبہ کو زبردستی حجاب اتارنے پر مجبور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اخلاقی دیوالیہ پن، شدید سماجی تقسیم اور پرتشدد انتہاء پسندی کا شکار ہو چکا ہے جبکہ بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار جیسے سینئر سیاسی رہنما کی جانب سے اس نوعیت کا طرز عمل انتہائی قابل مذمت ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ واقعہ بھارت میں بڑھتی ہوئی اسلامو فوبیا کی واضح مثال ہے جسے منفی پروپیگنڈے اور مسخ شدہ بیانیوں کے ذریعے ہوا دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفتر خارجہ نے اس واقعہ کی باضابطہ مذمت کی ہے جس کے بعد اسلام آباد کی جانب سے سفارتی سطح پر ردعمل دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے فعل کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا، ایسے واقعات کو الگ تھلگ نہیں دیکھا جانا چاہئے کیونکہ عموماً یہ منظم پروپیگنڈے اور مسخ شدہ بیانیوں سے جڑے ہوتے ہیں جنہیں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کو بھارت کی جانب سے مسلسل انفارمیشن وار فیئر کا سامنا ہے بالخصوص دونوں ایٹمی طاقت رکھنے والے پڑوسیوں کے درمیان کشیدگی کے دوران۔ انہوں نے کہا کہ غلط معلومات اور مبالغہ آمیز دعوے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی رائے کو متاثر کرنے کے لئے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ سال کے اوائل میں پاکستان کی جانب سے معرکہ حق کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اس کشیدگی کے دوران اطلاعات کا میدان سفارتی اور عسکری دباؤ کے ساتھ ایک اہم محاذ کے طور پر ابھرا۔ انہوں نے کہا کہ کشیدگی کے دوران بھارتی میڈیا اور آن لائن ذرائع سے جھوٹے اور گمراہ کن دعوے بڑے پیمانے پر پھیلائے جا رہے تھے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ بھارت کی معلومات کی مربوط حکمت عملی کے فقدان کے باعث غلط رپورٹس گردش کرتی رہیں جس سے بالآخر نئی دہلی کی بین الاقوامی ساکھ متاثر ہوئی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے پاکستان کے نکتہ نظر کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں بروقت اور تصدیق شدہ معلومات جاری کرنے کو ترجیح دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے مربوط مواصلاتی حکمت عملی اپنائی جس میں وزیراعظم آفس، وزارت خارجہ، وزارت اطلاعات اور پاک فوج کے میڈیا ونگ آئی ایس پی آر کے درمیان مکمل ہم آہنگی قائم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے پہلگام واقعہ کی منصفانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی اور سفارتی رابطے باقاعدہ میڈیا بریفنگ کے ساتھ جاری رکھے گئے۔ معلومات کو اداروں کے درمیان بروقت شیئر کیا گیا اور پاکستانی براڈ کاسٹرز اور بین الاقوامی میڈیا اداروں تک فوری طور پر فراہم کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے پاکستان کے میڈیا کی جانب سے معلومات کو ذمہ داری کے ساتھ نشر کرنے کی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا بھی اسلام آباد کی پیش کردہ رپورٹ پر انحصار کرتا ہے کیونکہ یہ تصدیق شدہ حقائق پر مبنی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سطح پر پاکستان کی حکومت نے کشیدگی کے دوران سیاسی یکجہتی پر زور دیا جبکہ بھارت میں سیاسی تفریق نے اس کے پیغامات کی ہم آہنگی کو متاثر کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے غلط معلومات کا مقابلہ کرنے کے لئے ڈیجیٹل ٹولز پر بھاری انحصار کیا جبکہ بھارتی حکام نے پاکستانی یوٹیوب چینلز اور کمنٹیٹرز پر پابندی عائد کی تو پاکستان نے بھارت میں ڈیجیٹل اشتہارات کے ذریعے براہ راست بھارتی ناظرین تک پاکستانی مواد پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی مسلح افواج کو دکھانے والا مواد لاکھوں ناظرین تک پہنچا اور بھارت میں مقامی پلیٹ فارمز پر پاکستانی بیانیہ کی اہمیت اور مباحثے کو جنم دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام نے ایک دوسرے سے منسلک میڈیا ماحول میں ڈیجیٹل سنسر شپ کی حدود کو ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے غلط رپورٹنگ کا مقابلہ کرنے کے لئے حقائق کی جانچ پڑتال کے اپنے طریقہ کار کو فعال کیا ہے۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وزارت اطلاعات نے آفیشل ”فیک نیوز بسٹر“ سوشل میڈیا اکاونٹس اور ایک مخصوص ویریفیکیشن سیل قائم کیا ہے جو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی نگرانی، غلط مواد کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ تصحیحات جاری کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکام عالمی نیوز ایجنسیوں کے صحافیوں سے باقاعدہ رابطے میں رہتے ہیں تاکہ بروقت وضاحت اور درست رپورٹنگ کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکومت کی انفارمیشن پالیسی اور ڈیجیٹل ڈیپارٹمنٹ کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ اقدامات پاکستان کی انفارمیشن اور کمیونیکیشن پالیسی کی وسیع ری سٹرکچرنگ کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے انتظامی قوانین میں ترمیم کے بعد پاکستان کا پہلا سرکاری ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ قائم کیا۔ یہ ڈیپارٹمنٹ ایک مرکزی حب کے طور پر کام کر رہا ہے جس میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹمز، مواد کی تیاری کی سہولیات، پوڈ کاسٹ اسٹوڈیو اور ڈیجیٹل میڈیا سپیشلسٹ اور انفلوئنسرز کی ان ہائوس ٹیمیں موجود ہیں۔

اس ڈیپارٹمنٹ کا کردار بیانیہ کی نگرانی کرنا، پیغامات کو ہم آہنگ کرنا اور معمول کے حکومتی امور اور کشیدہ صورتحال میں تصدیق شدہ معلومات کو فوری طور پر پہنچانا ہے۔ انہوں نے اس ڈیپارٹمنٹ کو ایک ”nerve centre“ قرار دیا جو بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران خاص طور پر موثر ثابت ہوا کیونکہ اس نے مختلف ریاستی اداروں کو ایک واحد کمیونیکیشن فریم ورک کے تحت کام کرنے کی سہولت فراہم کی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ موجودہ حکومت کی حکمت عملی ماضی کی حکومت سے مختلف ہے جو صرف روایتی پریس بریفنگز اور ردعمل پر مبنی کمیونیکیشن اسٹریٹجی پر انحصار کرتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومتوں کے پاس مستقل ڈیجیٹل موجودگی نہیں تھی اور وہ بحران کے وقت وقتی بنیادوں پر ردعمل ظاہر کرتی تھیں۔ موجودہ حکمت عملی میں پیشگی ڈیجیٹل مشغولیت، اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور فوری فیکٹ چیکنگ کو حکمرانی کے بنیادی عناصر کے طور پر ترجیح دی گئی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ انفارمیشن پالیسی حکومت کے وسیع تر مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ ہے جن میں سفارت کاری، اقتصادی بحالی اور بین الاقوامی ساکھ کے انتظام شامل ہیں۔ انہوں نے غلط معلومات کے خلاف عالمی سطح پر ہم آہنگ ردعمل کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ڈس انفارمیشن، اسلامو فوبیا اور ڈیجیٹل پروپیگنڈا عالمی چیلنجز ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ان مسائل کو اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم جیسے کثیر الطرفہ فورمز پر مسلسل اٹھائے گا۔ انہوں نے مشترکہ معیارات طے کرنے، مضبوط بین الاقوامی تعاون قائم کرنے اور سوشل میڈیا کمپنیوں کی زیادہ جوابدہی یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان موثر رابطے اور معتبر معلومات کے انتظام کو قومی مفادات کے تحفظ اور بین الاقوامی سطح پر اپنے موقف کو مضبوط بنانے کے لئے انتہائی اہم سمجھتا ہے۔