بانی پی ٹی آئی اور انکی اہلیہ کے خلاف حالیہ عدالتی فیصلہ کسی فرد یا جماعت کے خلاف نہیں بلکہ ریاستی امانت کے تحفظ اور قانون کی بالادستی سے جڑا ہوا ہے، فیصل کریم کنڈی

پشاور۔ 20 دسمبر (اے پی پی):گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ بانی تحریک انصاف اور انکی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ کے حوالہ سے حالیہ عدالتی فیصلہ کسی فرد یا جماعت کے خلاف نہیں بلکہ ریاستی امانت کے تحفظ اور قانون کی بالادستی سے جڑا ہوا ہے۔ گورنر ہاؤس خیبر پختونخوا سے جاری بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ جب …

پشاور۔ 20 دسمبر (اے پی پی):گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ بانی تحریک انصاف اور انکی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ کے حوالہ سے حالیہ عدالتی فیصلہ کسی فرد یا جماعت کے خلاف نہیں بلکہ ریاستی امانت کے تحفظ اور قانون کی بالادستی سے جڑا ہوا ہے۔ گورنر ہاؤس خیبر پختونخوا سے جاری بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ جب عدالت کسی عوامی عہدے دار کے بارے میں یہ نتیجہ اخذ کرے کہ ریاستی تحائف کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا گیا تو یہ فیصلہ شخصیات سے بالاتر ہو کر اصولوں سے وابستہ ہو جاتا ہے، اسے سیاسی اختلاف قرار دینا حقائق کے منافی ہے۔ گورنر نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق توشہ خانہ کے طریقہ کار میں 2018 سے واضح شرط موجود ہے کہ ہر تحفہ، قیمت سے قطع نظر، فوری طور پر رپورٹ اور ڈپازٹ ہونا چاہیے۔

جب قانون کسی ذمہ داری کو واضح کر دے تو اس کی خلاف ورزی محض غلطی نہیں رہتی بلکہ قواعد کی توہین اور ریاستی نظام کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فیصلے کو قواعد کے نفاذ کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ مقدمہ کا باریک بینی سے جب جائزہ لیں تو واضح ہوتا ہے کہ استغاثہ کا مؤقف مبہم نہیں بلکہ ایک واضح لین دین پر مبنی ہے، جس میں Bvlgari جیولری سیٹ سے متعلق نان ڈیپازٹ، انڈرایویلوایشن اور ری ٹینشن کے پہلو شامل ہیں۔ جب مقدمہ ایک مخصوص واقعے، ایک واضح تحفے اور طے شدہ طریقہ کار کی خلاف ورزی کے گرد گھومتا ہو تو اسے سیاسی کہہ کر کمزور نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ مقدمہ ریکارڈ اور قواعد کی بنیاد پر چلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدالت نے جرم ثابت پایا تو وہ کسی ایک بیان پر نہیں بلکہ متعدد شواہد کی باہمی تائید پر مبنی ہوتا ہے، جن میں ڈیپازٹ کی عدم موجودگی، قیمت کے تعین کا پورا چین اور بیرونی تصدیق شامل ہے۔

جب شواہد مختلف سطحوں پر ایک ہی سمت اشارہ کریں تو وہ محض کہانی نہیں بلکہ مضبوط شواہد کی تصدیق بن جاتے ہیں۔ گورنر خیبر پختونخوا نے واضح کیا کہ ریکارڈ میں قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا باقاعدہ تعین موجود ہے، جو انڈرایویلوایشن اور ری ٹینشن کے فرق سے جڑی ہے۔ یہ معاملہ عوامی پیسے اور ریاست کے وقار کا ہے، جب نقصان ناپا جا سکے اور طریقہ کار کی خلاف ورزی واضح ہو تو سزا کا مقصد صرف تعزیر نہیں بلکہ روک تھام اور مثال قائم کرنا بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سزا اگر سنائی گئی ہے تو وہ مکمل عدالتی نگرانی میں ایک طے شدہ پراسیس کے بعد ہوئی، جس میں تفتیشی مراحل، گواہوں کا طریقہ کار، چالان اور ریکارڈ کی فراہمی شامل ہیں۔ عدالتوں کا کردار یہی ہے کہ الزام کو ثبوت اور قانون کے معیار پر پرکھا جائے، لہٰذا فیصلے کو غیر منصفانہ کہنا دراصل عدالتی عمل کی نفی ہے۔

گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ ریکارڈ میں دفاع کے حقوق سے متعلق تمام اقدامات موجود ہیں، جن میں درخواستیں، کارروائیاں اور عدالت کی ہدایت پر سوال نامہ کے ذریعے دفاعی مواد پیش کرنے کے مواقع شامل ہیں۔ قانون دفاع کا حق دیتا ہے اور جب یہ حق فراہم کیا جائے اور اس کے باوجود جرم ثابت ہو تو فیصلے کی اخلاقی اور قانونی بنیاد مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ یہ فیصلہ کسی فرد کو مضبوط یا کمزور کرنے کے لیے نہیں بلکہ اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے ہے، عوامی عہدہ ایک امانت ہے اور ریاست کے نام پر ملنے والے تحائف ریاست کی ملکیت ہوتے ہیں، ذاتی نہیں۔ اگر عدالت نے سزا سنائی ہے تو یہ ایک واضح پیغام ہے کہ عہدہ فائدے کے لیے نہیں، خدمت کے لیے ہوتا ہے۔