دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے نوجوانوں کے استحصال کی مکروہ سازشیں بے نقاب

اسلام آباد۔21دسمبر (اے پی پی):دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے نوجوان ذہنوں کو گمراہ کر کے شرپسندی میں جھونکنے کے واقعات منظرِ عام پر آ گئے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کے بیانات سے انکشاف ہوا ہے کہ نوجوانوں کو تعلیم کے نام پر دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں استعمال کیا جاتا رہا۔ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کے اہلِ خانہ نے اعتراف کیا ہے کہ نوجوانوں کو پہاڑی علاقوں میں موجود شرپسند …

اسلام آباد۔21دسمبر (اے پی پی):دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے نوجوان ذہنوں کو گمراہ کر کے شرپسندی میں جھونکنے کے واقعات منظرِ عام پر آ گئے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کے بیانات سے انکشاف ہوا ہے کہ نوجوانوں کو تعلیم کے نام پر دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں استعمال کیا جاتا رہا۔ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کے اہلِ خانہ نے اعتراف کیا ہے کہ نوجوانوں کو پہاڑی علاقوں میں موجود شرپسند عناصر کی آماجگاہوں تک پہنچایا گیا جہاں انہیں شدت پسندی کے راستے پر ڈال دیا گیا۔دہشت گرد غلام جان کے بھائی نے بتایا کہ غلام جان تعلیم کے حصول کے لیے کراچی گیا تھا، تاہم کچھ عرصے بعد اس سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

طویل تلاش اور کوششوں کے باوجود کوئی سراغ نہ ملا، یہاں تک کہ بعد ازاں غلام جان کی شناخت ایک ہلاک دہشت گرد کے طور پر ہوئی۔اسی طرح دہشت گرد آصف کے والد نے تسلیم کیا کہ ان کا بیٹا تعلیم ادھوری چھوڑ کر دہشت گرد تنظیموں کا حصہ بن گیا تھا۔ ان کے مطابق بے پناہ فریاد اور منت سماجت کے باوجود آصف نے گھر والوں کی بات نہ مانی اور مکمل طور پر رابطہ ختم کر دیا۔آصف کے والد نے مزید بتایا کہ بیٹے نے شدت پسندی کی راہ میں رکاوٹ بننے پر انہیں گولی مارنے کی دھمکی بھی دی، جس سے خاندان شدید ذہنی اذیت کا شکار رہا۔ریاستی بیانیہ واضح ہے کہ دہشت گردی کا راستہ صرف ہلاکت، بدنامی اور خاندانوں کے لیے شرمندگی و پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں لاتا، جبکہ نوجوانوں کا مستقبل تاریکی میں دھکیل دیا جاتا ہے۔